بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے کیخلاف درخواست منظور

لاہور:لاہورہائیکورٹ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام احساس پروگرام سے تبدیل کرنے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے جوا ب طلب کر لیا جبکہ فاضل عدالت نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ حکم امتناعی سے غرباء کی امداد میں کوئی رکاوٹ آئے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کی تفریق بننے کی درخواست پر سماعت کی ۔فاضل عدالت نے استفسار کیا آیا ریگولیشن رولز کی جگہ پر استعمال ہو سکتے ہیں،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کابنیادی نام تبدیل کر کے پروگرام چلائے جا سکتے ہیں؟،کیا ایسا کرنا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بنیادی روح کی خلاف ورزی تو نہیں ہو گی؟۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ حکم امتناعی سے غربا ء کی امداد میں کوئی رکاوٹ آئے جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاق بڑا تیز ہے، عدالت نے ابھی تو بلایا ہی نہیں تھا کہ وفاق کی پوری ٹیم بھی آ گئی۔اس درخواست کو سماعت کیلئے منظور کر لیتا ہوں، وفاق کی موجودگی میں پھر حکم امتناعی بھی جاری کر دیتا ہوں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ٹیم متفرق درخواست میں نوٹس جاری ہونے پر پیش ہوئی ہے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ڈی جی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ایکٹ کے تحت کرونا وائرس متاثرین میں احساس پروگرام کی رقوم تقسیم کرنے کا بیان دیا تھا، ڈی جی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کرنے سے متعلق عدالتی استفسار پر معاونت کرنے سے قاصر نظر آئے تھے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام تبدیلی کے معاملے پر ڈی جی کے مناسب معاونت نہ کرنے پر ہی عدالت نے متعلقہ سیکرٹری کو بھی طلب کیا تھا، قمرزمان کائرہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے تھے اور نام تبدیلی کے معاملے پر عدالت کی درست معاونت کر سکتے ہیں، قمر زمان کائرہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق ریکارڈ اور معلومات مناسب طریقے سے فراہم کر سکتے ہیں، پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق چیئرمین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام قمرزمان کائرہ کو درخواست میں فریق بننے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایکٹ فنکشنل ہے؟ ،کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کو مالی معاونت کا پروگرام چل رہا ہے؟ ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایکٹ فنکشنل ہے اور اسی ایکٹ کے تحت دیگر پروگرام چل رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفار کیا کہ کیا آپ سرکار ی ملازم ہیں یا براہ راست اس پروگرام کو چلا رہے ہیں، ،یہاں پر ایسا بھی ہو رہا ہے کہ کئی کوگوں کو براہ راست لگایا گیا ہے۔ سیکرٹری پروگرام نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کفالت، وسیلہ تعلیم سمیت دیگر پروگرام چلتے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چیئرمین کون ہیں؟ ۔سیکرٹری پروگرام نے بتایا کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر اس پروگرام کی چیئر پرسن اور بورڈ کی سربراہ بھی ہیں، بجٹ کیلئے کابینہ سے منظوری لینے کے بعد رقم حاصل کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کابینہ کو کس قانون کے تحت اختیار حاصل ہے؟ ،اس ایکٹ کے تحت کوئی رولز بنائے گئے ہیں؟۔ سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے بتایا کہ گزشتہ دس سال سے یہ ادارہ چل رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ انتخابات سے قبل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر لوگوں کو امداد دی جاتی رہی ہے؟ ۔ سیکرٹری نے بتایا کہ جی امداد دی جاتی تھی، آپ نے اس کا نام تبدیل کیا؟ ۔ سیکرٹری پروگرام نے بتایا کہ ماس کو کفالت کا نام دیا گیا، پہلے وسیلہ، وسیلہ حق، تعلیم وسیلہ کے ناموں سے امداد دی جاتی رہی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا یہ صوبائی خود مختاری کے خلاف نہیں ہے؟ ۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ ایکٹ موجود ہے؟ ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایکٹ کے ذریعے آئینی اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے؟ ۔سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے قانونی معاونت سے معذوری ظاہر کر دی جبکہ وفاقی حکومت کے وکیل عدالتی استفسار پر خاموش رہے ۔عابد ساقی نے کہا کہ بینظیر خواتین کی خود مختاری اور تعلیم کیلئے کچھ کرنا چاہتی تھیں، بینظیر اس ملک کے غریب عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا چاہتی تھیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کر کے ایک لیڈر کا نام ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مجھے عدالت میں پیش ہونے کا تجربہ نہیں اگر کوئی غلطی ہو تو معاف کر دیجئے گا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت کے خاتمے کیلئے نہیں بلکہ مالی معاونت کا پروگرام تھا، دنیا بھر میں اس پروگرام کو تسلیم کیا گیا، یہاں سیاسی اپنے مخالفین کی تختیاںاکھاڑ کر اپنی لگائی جاتی ہیں۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت نے اس پروگرام میں ذیلی پروگرام ضم کر دیئے، ۔ چیف جسٹس نے قمر زمان کائرہ سے استفسار کیا آپ پہلے چیئر پرسن تھے اس وقت کتنے پروگرام چلائے گئے؟ ۔ قمر زمان کائرہ نے بتایا کہ اس وقت خواتین کے علاوہ کسی کو امداد نہیں دی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایکٹ کے دیباچہ اور کسی شق میں صرف خواتین کا ذکر نہیں ،ایکٹ میں فیملی کا ذکر ہے جس میں مرد، بچے و بوڑھے بھی آجاتے ہیں ۔ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ اس کا پہلے وصول کنندہ خواتین ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس سارے ایکٹ کی زبان یہ نہیں بتا رہی کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام صرف خواتین کی حد تک ہے، درست ہے کہ معاشروں کا اصول یہی ہوتا ہے جو معاشرے کے محروم طبقات کے بلند معیار کیلئے کام کیا جائے، ۔ سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے کہا کہ پہلے کارڈ ہوتا تھا اب بائیو میٹرک طریقے سے رقم دی جاتی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا بورڈ کو اختیار ہے کہ قانون سے ہٹ کر نام تخلیق کرتا رہے؟ یہ ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور ہوا تو بورڈ کو نام تبدیل کرنے کا کیا اختیار ہے، ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ میں رکن اسمبلی نے اس ایکٹ کیخلاف تقریر کی تھی،ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ کسی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی مخالفت کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں