پارلیمنٹ کے لئے ایک اور امتحان
وزیر اعظم عمران خان نے ایک نجی چینل کو انٹرویودیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن کے عدم تعاون کے باعث مسترد کئے گئے دونوں بل اور (شائد مزید بل بھی) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کئے جائیں گے۔اگر اپوزیشن نے اس سلسلے میں رکاوٹ ڈالی اور بل منظور نہ ہو سکے تو خدشہ ہے کہ پاکستان کانہ صرف ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا مشکل ہو جائے گابلکہ بلیک لسٹ میں جانے کے خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔وزیر اعظم نے خطرے سے آگاہ کر دیا ہے اپوزیشن تک پیغام پہنچ گیا ہوگااجلاس کی تاریخ دور نہیں اپوزیشن کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے؟ سامنے آجائے گا۔دراصل نیب قوانین میں اپوزیشن کی مجوزہ 34ترامیم کا جس طرح مذاق اڑایا تھا اور اسے ”این آر او“ مانگنے کی دستاویز قرار دیا تھا اس کے بعد اپوزیشن کے لئے اپنی فیس سیونگ ضروری ہو گئی تھی۔چنانچہ سینیٹ میں اس نے اپنی قوت دکھا دی۔لیکن معاملہ یہیں نہیں رکے گا اس لئے کہ حکومت آئین میں مزید ترامیم کرنا چاہتی ہے اور اس کے نتیجے میں 18ویں ترمیم کی بعض شقیں بھی متأثر ہوں گی۔پی پی پی پہلے دن سے محسوس کر رہی ہے کہ وفاق صوبوں سے بعض مالیاتی اختیارات واپس لینا چاہتا ہے اس طرح این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو ملنے والا حصہ بھی کم ہو سکتا ہے۔سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے مسائل پر وفاق کی جانب سے مدد کی حالیہ پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ یہ امداد صوبائی اختیارات میں کمی کی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی۔دیگر تینوں صوبے وفاق کے ساتھ ہیں۔گیند وفاق کے کورٹ میں ہے۔پارلیمنٹ میں ناقابل فہم مظاہرے دیکھے جا چکے ہیں۔چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی شائددیر تک سیاست کے طالب علم یاد رکھیں گے۔
خطے کاسیاسی منظر تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔افغانستان سے امریکی افواج کا متوقع انخلاء ایک اہم اقدام ہوگا۔ اسی دوران ایران کا چین کے قریب آناایک بڑی تبدیلی کا اشارا دے رہا ہے۔ایران سے بھارت کے اقتصادی تعلقات میں کمی بھی امریکی مفادات کے لئے سوالیہ نشان ہے۔سعودی عرب کی اپنی سیاسی مشکلات ہیں اپنے اقتصادی مفادات ہیں پیٹرول کی قیمتوں حالیہ گراوٹ نے اس کی معیشت کے لئے نئے چیلنجز پیدا کر دیئے ہیں۔پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین کوئی بڑا رخنہ نہ پڑے، لیکن ان دیکھے عالمی تقاضے ایک نئی حقیقت بن کر ابھرے ہیں۔کورونا کی وباء نے تمام ممالک کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔6مہینے میں دنیا کی نفسیات تبدیل ہو گئی ہے۔کل تک جو ممالک مستحکم معیشت کی شہرت رکھتے تھے آج خسارے سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔دنیا نے دو عالمی کیمپوں کی سرد جنگ اور تنہا امریکی کی برہنہ لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا تجربہ کر لیا ہے۔اب عالمی نظام ایک نئی تبدیلی کا تقاضہ کر رہا ہے کون پرانے کیمپ میں رہتا اور کون پرانے کیمپ کوخیرباد کہہ کر کوئی دوسری چھتری تلاش کرتا ہے؟ یہ ابھی واضح نہیں۔نومبر میں امریکی انتخابات کا نتیجہ آجائے گا جنوری میں نئے صدر کی حلف بردار ی ہوگی نئے صدر نے نئی پالیسی کا(اگر)اعلان کیا یا نہ کیا دونوں صورتوں میں بعض ملک اپنی پوزیشن تبدیل کریں گے۔اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات پر سے گرد ہٹ جائے گی۔سعودی عرب بھی اس حوالے سے کھل کر فیصلہ کر سکے گا۔ایسی اطلاعات بھی گردش میں ہیں کہ سعودی ولیعہد اسرائیلی حکومت سے خفیہ ملاقات کے لئے تیار ہے بشرطیکہ اسے کچھ عرصہ صیغہئ راز میں رکھا جائے۔ اس تناظر میں پاکستان کسی نئے داخلی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پالیسی سازوں کو آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں لانے سے پہلے بہت سوچ بچار کی ضرورت ہے عجلت میں کوئی ایسی غلطی نہ کی جائے جسے سنبھالنا مشکل ہو جائے۔
بننے کی قیمت ادا کردی ہے 75سال بعد پرانا عالمی ڈھانچہ اپنی افادیت کافی حد تک کھو چکا ہے۔اقوام متحدہ نے امریکی باندی کا کردار طویل عرصے تک ادا کیا دنیا کی نظروں میں اقوام متحدہ کا یہ کردار سخت ناپسندیدہ تھا۔کورونا وائرس کے آغاز پر امریکی صدر کا سلوک دنیا کے سامنے آگیا ڈبلیوایچ او کے فنڈز روکنے کا اعلان اقوام متحدہ کی اصل حیثیت دکھانے کے لئے کافی تھا۔چنانچہ موقع ملتے ہی اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل میں امریکا مخالف فیصلہ سنا کر بتا دیا ہے کہ اب وہ امریکی باندی کا کردار ادا نہیں کرے گی۔لیکن یہ ابتدائی اشارا ہے، اس سے آگے کا سفر لمبا اور پیچیدہ ہے، اسے سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔پاکستان اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کے ساتھ گرے لسٹ سے نکلنے کی تگ و دو میں بھی مصروف ہے۔تاہم اس حوالے سے یہ سوچنا درست نہیں کہ پاکستان کوبلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ درپیش ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے میں سنجیدہ ہے۔اپوزیشن کو بوجوہ یہ پسند نہیں کہ مالیاتی نقل و حمل سے متعلق ایسی خوفناک ترامیم اتنی تیز رفتاری کی جائیں مگر اپوزیشن مقدمات کا سامنا کر رہی ہے دیر تک حکومتی بلوں کی مخالفت نہیں کر سکے گی۔ لیکن صوبائی خود مختاری کے نام پر اپوزیشن حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔اس تناظر میں حکومت عجلت میں آئینی ترمیم منظور کرانے کی کوشش نہ کرے۔ یہ وقت کسی داخلی خلفشار کی اجازت نہیں دیتا۔باہمی افہام و تفہیم سے راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے۔حکومت کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں۔تحمل سے کام لیا جائے۔18ویں ترمیم کی اپنی سائیکی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کی اتفاق رائے سے منظوری اس کی پشت پر ہے۔اسے نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ابھی اپوزیشن کو ہم خیال بنایا جا سکتا ہے لیکن اپوزیشن کو اشتعال دلا کر یہ توقع نہ کی جائے کہ حالات کو نارمل کرنا آسان ہوگا۔


