کیا پارلیمنٹ صرف ہلڑ بازی کے لئے بنی ہے؟
قومی اسمبلی میں اوپن بیلٹنگ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا،اپوزیشن نے حکومت کا پیش کردہ آئینی پیکج مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت اگر انتخابی اصلاحات کرنا چاہتی ہے تو پارلیمانی کمیٹی بنائے۔قومی اسمبلی اکھاڑے میں تبدیل ہو گئی۔ارکان کی سیٹیاں، ایک دوسرے کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے یوں محسوس ہوتا یہ قومی اسمبلی نہیں بلکہ کوئی سینما ہال ہے جہاں تماشائی اپنی پسند کے فلمی ٹوٹوں کا مطالبہ کر رہے ہوں۔عام آدمی پارلیمنٹ میں ایسے مناظر دیکھ کر خوش نہیں ہوتا،یہ رویہ ملک کے قانون ساز ادارے کی قدرومنزلت میں اضافہ نہیں کرتا۔عام آدمی سوچتا ہے پارلیمنٹ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے قانون بناتی ہے اور ان قوانین پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ دار ہے۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) اس حوالے سے اہم ترین فرائض ادا کرتی ہے۔اس کے چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتے ہیں۔اپوزیشن کے پاس حکومتی ترمیمی بل پہنچ گیا ہے۔اسپیکر سے درخواست کی جاتی کہ ہمیں دو دن سوچ بچار کے لئے دیئے جائیں۔اسپیکر قومی اسمبلی ہاؤس کی درخواست پر اجلاس ملتوی کر دیتے،دو دن اپوزیشن ایوان سے باہر اپنی پسند کے کسی مقام پر مطلوبہ ترامیم پر غور کرتی۔ماہرین قانون سے مشاورت کی جاتی اور قومی مفاد میں اصلاحات کے ساتھ اپنی تجاویز ہاؤس میں بحث کے لئے پیش کردیتی۔لیکن ایسا نہیں ہوا، عام آدمی سمجھتا ہے کہ ابھی کافی عرصہ ایوان تک اتاکین ایک دوسرے سے باہم دست و گریبان رہیں گے۔آئیڈیل اسمبلی کے معرض وجود میں آنے کے لئے دہائیاں درکار ہیں۔ جو اراکین قانون سازی میں مددگا ہونے کی بجائے قانون سازی کی راہ میں دیوار بن جائیں ان سے قانون سازی کی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔
سینیٹ کے امنتخابات میں صرف اراکین صوبائی اسمبلی کو ووٹ دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔جب اراکین اسمبلی کو اپنی جماعت کے اراکین پر سے اعتماد اٹھ جائے اور وہ سینیٹ انتخابات کو ”ہارس ٹریڈنگ“ کہنے لگیں تو عام آدمی کی زبان گنگ ہو جاتی ہے، اسے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔عام آدمی کچھ ایسی ہی کیفیت میں ہے۔وہ حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھ رہا ہے کہ ایسی اندھیری رات میں اسے کون راستہ دکھائے گا؟ 2018کی اسمبلی کا قانون سازی کا ریکارڈ شاید سب سے خراب نکلے۔اس کی بنیادی وجہ سے سب واقف ہیں،سب جانتے ہیں کہ اپوزیشن اور سرکار کے درمیان عمران خان کی ”میں این آر او نہیں دوں گا“ والی تکرار حائل ہے۔براڈ شیٹ کیس میں برطانوی عدالت کے حکم پر اربوں روپے جرمانہ ادا کرناایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آگیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان یہ سمجھے جیسے انہیں بیٹھے بٹھائے ایک نعمت مل گئی ہے۔اور اپوزیشن نے پہلے تو حسب معمول ایک دوسرے کو مبارکباد دی مگر دھیرے دھیرے تفصیلات دیکھنے کے بعد حسب سابق وہی کچھ کرنے لگی جو پانامہ لیکس کیس میں کر چکی تھی۔لیکن اس مرتبہ حکومتی تیور بتا رہے ہیں کہ معاملہ دگر گوں ہے۔اسمبلی کو سینما ہال بنانے کی کوشش سے، کم از کم عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ اپوزیشن آخری حدوں تک جائے گی۔نتیجہ کیا ہوگا؟ شاید یہ سوال غیر اہم ہوتا جا رہا ہے۔فی الحال دنوں اور گھنٹوں اپوزیشن کو اندازہ کے حساب سے حکمت عملی وضع کرنے کی نوبت آگئی ہے،اپوزیشن کوماضی میں ایسی صورت حال کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔یہی وجہ ہے ساری توجہ سینیٹ انتخابات کے قوانین میں کوئی تبدیلی نہ ہونے دینے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ مگر ایک مہینے میں ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا جو حکومت کے ہوش اڑادے۔عالمی منظر بھی اپوزیشن کے حق میں نہیں،16اکتوبر سے 31 جنوری تک اپوزیشن اپنے پتے کھیل چکی کوئی بڑا ڈینٹ نہیں ڈال سکی۔ حکومت پہلے ہی کہہ رہی تھی کہ اس نے اپوزیشن لکرپشن دوست ثابت کرنا تھا اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔
سیاسی پارٹیاں جب دنیا مزاج کو سمجھنے سے گریز کریں، حالات کا تجزیہ 90کی دہائی کی روشنی میں کریں فوجی جنرل جب ملک کا تمام تر اقتدار سنبھالتا ہے، اندر سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ صرف آرمی چیف ہوتا ہے اسے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جیسا کمزور سمجھنا درست نہیں۔اپوزیشن کو یہ نکتہ سامنے رکھنے کی ضرورت تھی۔مس کیلکولیشن سے نقصان پہنچنا تھا، پہنچا۔اب حالات کو تازہ منظر میں رکھ کر دیکھا جائے۔ آگے چلنے کی فکر کی جائے۔کشتی بیچ منجھدار میں ہے، ساحل دور ہے، کشتی کے بارے میں یقین سے کہنا مشکل ہے کہ ساحل تک لے جائے گی۔ ان حالات میں سارا کام گالم گلوچ سے نہیں لیا جا سکتا۔تاہم فیصلہ تین پارٹیوں کی قیادت کو ہی کرنا ہے،اور مشکلات بھی ان کی دوسروں سے بڑھ کر ہیں۔ ہاتھ مارنا ان کا حق ہے، لیکن پابند سلاسل ہیں یاحکومت یہ تا ثئر دے رہی ہے کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ پی ڈی یم نے آنکھیں دکھا کر دیکھ لیا کوئی کامیابی نہیں ملی اور اگر اپوزیشن کا خیال کہ اس نے کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو عوام کے سامنے لائے۔اگر مارچ کے وسط میں وزیر اعظم نے میدان مار لیا تو اور سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ان کی قانون سازی کے راستے کی مشکلات کم ہو جائیں گی۔اور اپوزیشن جو تھوڑی بہت اپنی بات منوا سکتی،ہے،وہ بھی جاتی رہے گی۔ بہر اس مقامکوئی گھیر نہیں لایا، برضا و رغبت یہاں پہنچی ہے۔لیکن ان مشکلات کے یہ معنے ہوتے ملک میں قانون سازی بالکل روک دی جائے۔حکومت کے سانس لینے کی گنجائش ختم کرنا درست حکمت عملی نہیں ہوتی۔اپنے طویل تجربے اور سیاسی بصیرت سے کام لیا جائے، کوئی نہ کوئی درمیانہ راستہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔اپنی شرائط پر اڑے رہنا اور دوسرے کی ایک نہ سننے کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج پی ڈی ایم کے سامنے ہے۔


