سربراہ تحریک لبیک پاکستان کاپیغام/اپیل
سربراہ تحریک لبیک پاکستان سعد رضوی ولدخادم رضوی نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے (بقائمی)ہوش و حواس بلا جبر(واکراہ) پیغام میں مجلس شوریٰ اور کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں،کوئی ایسا اقدام نہ کریں جو ملکی مفاد کے خلاف ہو، مرکز مسجد رحمت اللعالمین کے سامنے احتجاج سمیت تمام بلاک سڑکیں خالی کر کے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ اس سے کچھ لمحے پہلے حکومت پاکستان کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹی پی ایل کو قانون نافذ کرنے والے اداروں حملوں، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر پر تشدد اقدامات اور سرگرمیوں کی بناء پر کالعدم قراردے دیاگیا ہے۔اس نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد پیمرا نے بھی ٹی وی چینلز، ایف ایم ریڈیواور دیگر پروگراموں بشمول کرنٹ افیئرز میں ٹی ایل پی کی خبروں، سرگرمیوں کی نشرواشاعت پر پابندی عائد کر دی ہے۔رمضان شروع ہونے سے ایک دن پہلے ملک کی اہم شاہراہوں پر احتجاج اور دھرنے دینے کا آغاز ہو گیا،لوگوں کو اپنے دفاتر اور کاروباری مقامات سے گھر پہنچنے میں 18سے 20گھنٹے لگے۔ایمبولینسز کو بھی راستہ نہیں دیا گیا، بعض مریض بروقت اسپتال نہ پہنچنے کے باعث جاں بحق بھی ہوئے۔اگلے روز جو کچھ عوام نے دیکھا وہ پولیس اہلکاروں سے انتہائی بد سلوکی کے مناظر تھے۔انہیں لاٹھیوں اور لاتوں مکوں کے آزادانہ استعمال سے نشانہ بنایا گیا، دو اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ وزارت داخلہ کے مطابق 580اہلکار اور افسران احتجاج کرنے والے کارکنان کے ہاتھوں شدید زخمی ہوئے۔30سے زائد گاڑیاں تباہ ہوئیں،ٹی ایل پی 20اپریل کو فیض آباد دھرنے کے لئے بضد تھی اور اس کے عزائم خطرناک تھے۔ حکومت نے تما م معلومات کی روشنی میں تنظیم پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ اس کے کچھ دیر بعد ٹی ایل پی کے سربراہ کی اپیل/پیغام تمام ٹی وی چینلز پر دکھانے کا عمل شروع ہو گیا۔بظاہر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہنگامہ وقتی طور ٹل گیا ہے۔ خطرہ کتنے عرصہ کے لئے ٹلا ہے؟آنے والا وقت بتائے گاا س لئے کہ پابندی لگائی جانے کے بعد ماضی میں یہی لیڈرشپ معمولی سی تبدیلی اور کسی دوسرے نام کے ساتھ منظر پر آتی رہی ہے۔اصل مسئلہ فکری ہے۔فکری سمت درست کرنے میں ہمہ جہتی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے،پارلیمنٹ، میڈیا، مدارس سب کو مل کر کام کرناہوگا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں عارضی معاہدوں سے کام چلانے کی عادت پختہ ہوگئی ہے، مستقل حل کے بارے میں کبھی نہیں سوچا گیا۔جب تک بنیادی خرابی کو دور نہیں کیا جائے گا۔”ناموس رسالت“ کے تحفظ کا نعرہ لگا کر ملک میں ایک جذباتی فضاء پیدا ہونے کے امکانات موجود رہیں گے۔پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نامی آئینی ادارہ ملک میں 1973 سے موجود ہے۔اس ادارے کو یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ تعطیلات کو شمار نہ کرتے ہوئے 60دنوں میں ”ناموس رسالت“ کی غیر مبہم، شفاف، واضح اور جامع تعریف وضع کرے۔یہ تعریف قرآنی تعلیمات سے مطابقت رکھتی ہو۔اَللہ نے یقینا محمد (ﷺ) سمیت اپنے تمام رسولوں اور انبیاء کی ”ناموس“ کی حدود و قیود قرآن میں متعین کی ہوں گی،قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ”ناموس رسالت“کی غیر متنازعہ، واضح اور جامع تعریف وضع کی جائے۔پارلیمنٹ اس کی منظوری دے۔ اسے آئین کا حصہ بنایا جائے۔ قانون سازی اس کے مطابق ہو اور تمام مکاتیب فکر(فرقے) نجی محفلوں میں بھی اس آئینی شق اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کی پابندی کریں۔سورۃ الحجرات آیت 11پر عمل کریں، ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکاریں۔اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایت کی جائے کہ ”ناموس رسالت“ کی تعریف وضع کرتے وقت قرآن کی سورۃ البقرۃ آیت 136، آیت 285،سورۃ آلِ عمران آیت84، سورۃ النساء آیت 150، 151 اور 152 کو خاص طور پر سامنے رکھے۔اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ حقیقت دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اسلوب میں معلوم ہوگی کہ قرآن اَللہ کی نازل کردہ آخری کتاب ہے،اور اس میں 15سو سال گزرنے کے باوجودتحریف نہیں کی جا سکی۔دین میں جتنا بگاڑ نظر آتا ہے وہ قرآنی تعلیمات سے دوری اور بے خبری کا نتیجہ ہے۔فرقہ پرستی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔محرم اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ ہے، اگر فوج اور رینجر کو انتظامی ذمہ داری نہ سونپی جائے تو ہر سال پاکستان میں قتل و غارت گری میں بڑی تعداد میں شہری اپنی جان و املاک سے محروم ہوتے نظر آئیں۔فرقہ پرستی کا مستقل حل سورۃ الانعام آیت 65اور159میں موجود ہے۔ آئین کا حصہ بنایئے اور فرقہ پرستی سے ہمیشہ کے لئے نجات پایئے۔مگر اسلامی نظریاتی کونسل کو قرآن کی روشنی میں تجاویز وضع کرنے کی ہدایت سے پہلے پارلیمنٹ کو آئین کے آرٹیکل 227میں لکھی ہوئی Explanationحذف کرنا ہوگی۔یاد رہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ Explanationکی شکل میں قرآن کی توضیح و تشریح کا اختیار فرقوں کو منتقل کر چکی ہے۔ جب تک مذکورہExplanation کو آئین سے نہیں نکالاجاتا،پاکستانی شہری مذہبی تنظیموں کے ہاتھوں میں یرغمال بنے رہیں گے۔ حکومت کے ترجمان مولانا طاہر اشرفی اکثرو بیشتر میڈیا کے روبرو قرآن کی سورۃ المائدہ آیت 32پیش کرتے ہیں: ”ایک بیگناہ کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے“،لیکن اس آیت پر عمل پاکستان کی 74سالہ تاریخ میں کبھی نہیں کیاگیا۔تھانہ ماڈل ٹاؤن (لاہور) کی حدود میں (میڈیا کی موجودگی میں) پولیس نے نہتی عورتوں کے منہ میں پستول رکھ کر جو فائر کئے تھے اس کے پیچھے بھی یہی فرقہ وارانہ ذہنیت کارفرما تھی۔اس کا ثبوت وہ غلیظ متعصبانہ گالیاں تھیں جو فائرنگ کرنے والے پولیس اہلکار بک رہے تھے۔ اگر حکومت ریاست پاکستان کے معصوم اور نہتے شہریوں کو ہمیشہ کے لئے اس فسادی لٹھ بردار ذہنیت کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے سے بچا نا چاہتی ہے تو اسے سنجیدہ اور دور رس نتائج کے حامل اقدامات کرنا ہوں گے۔قرآن کو دین کی بنیادی کتاب تسلیم کرنا ہوگا۔ورنہ پاکستان میں فرقہ پرست جب چاہیں گے فساد پھیلاتے رہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ ابھی تک پاکستان کے مسلمان قرآن کو اَللہ کی نازل کردہ کتاب مانتے ہیں۔انہیں اس پر عمل کرنے کے لئے آمادہ کرنا حکومت کے /ریاست کے اختیار سے باہر نہیں ہوا۔


