نون لیگ کے لئے نئی پریشانی

مسلم لیگ نون 2016سے پریشانیوں کے گرداب میں گھری ہوئی ہے، ہر آنے والادن اس کی پریشانیوں میں اضافہ کرتادکھائی دیتا ہے۔ابھی شہباز شریف کے انٹرویو کی بازگشت تھمی نہیں تھی کہ لندن سے نواز شریف کے ویزہ میں توسیع کی درخواست مسترد کئے جانے کی اطلاع آ گئی اور میڈیا پر چھا گئی۔حیران کن سوال یہ ہے؛ کیا ایک ملک کا تین بار وزیر اعظم رہنے والا شخص برطانیہ میں اپنے ویزے میں توسیع کی درخواست کرے تو برطانوی حکومت انکار کر سکتی ہے؟مگر چشم ِ فلک نے یہ منظر بھی دیکھا۔نون لیگ کے ترجمان مانیں یا نہ مانیں شریف فیملی کے لئے مستقبل قریب میں کوئی اچھی خبر اندرون ملک یا بیرون ملک سنائی جانے کی توقع نہیں۔بری اطلاعات میں اضافے کے امکانات زیادہ ہیں۔اندرون ملک نیب نے میاں شہباز شریف کے خلاف نئی انکوائری کا فیصلہ کر لیا ہے۔اور بیرون ملک نواز شریف کی درخواست مسترد ہوگئی ہے۔اب وہ متعلقہ فورم پر اپیل کریں گے،بلکہ ان کے فیملی ذرائع کے مطابق اپیل دائر کردی گئی ہے۔، یا ان کے وکلاء اس کی تیاری کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ نواز شریف کا پاسپورٹ16فروری کو ختم ہوگیا تھا، اس کی تجدید نہیں کرائی گئی، اس لئے قانونی طور پر وہ پاکستانی شہریت کے حامل نہیں رہے۔یہ بھی یاد رہے کہ وہ نومبر2019میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر علاج کی غرض سے 4ہفتے کے لئے لندن گئے تھے۔واقعاتی شواہد سے یہی نظر آتاہے کہ انہوں نے لندن جاکر کسی اسپتال میں علاج نہیں کرایا،ورنہ ان کے ویزہ میں توسیع با آسانی ہوجاتی۔ علاوہ ازیں ان کی ہوٹلوں میں کھانے پینے کی ویڈیوز بھی وائرل ہوتی رہی ہیں۔ان کی فیملی نے اس قسم کی ویڈیوز کو ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا قرار دیا تھا۔اب معاملہ اپیل کے مرحلے میں ہے، اس میں چند مہینے لگیں گے۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے کہاجارہا ہے کہ جیسے ہی نواز شریف ایمرجنسی سفر کی اجازت کے لئے رجوع کریں گے انہیں 24گھنٹے میں درکار دستاویزات فراہم کر دی جائیں گی۔لیکن پاکستان پہنچتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا،اس لئے کہ وہ عدالت کو مطلوب ہیں، انہیں اشتہاری قرار دیاجا چکا ہے۔اس بار ان کی واپسی (اگر اسی تناظر میں ہوئی تو)اس کی حیثیت غیر سیاسی اور سراسر قانونی تقاضہ سمجھی جائے گی۔ان کے بیانیہ کو عوامی پذیرائی نہ ملنے کے بعد ان کا سیاسی وزن بھی یقینا کم ہوا ہوگا۔قد کاٹھ کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں، اس کا اندازہ وطن واپسی کے بعد ہوگا۔یہ طے ہے کہ بہت ساری چیزیں پرانے مقام پر سے ہٹ چکی ہیں۔ سیاست میں قائد کے لئے اپنے ساتھیوں کی رائے کااحترام بھی لازم ہوتا ہے،بالخصوص عوامی رد عمل سامنے آجانے کے بعد ایسا کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔نواز شریف کو اس حوالے سے بھی سوچنا ہوگا کہ ان کی جماعت کے سینیئر رہنما خاموش ہوکر گھروں میں گوشہ نشین کیوں ہوئے؟ ان کی ناراضگی کا سبب سب جانتے ہیں کہ وہ مریم نواز کی قیادت میں کام کرنااپنے مقام و مرتبے کے منافی سمجھتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ پارٹی قائد کے طور پر نواز شریف کو پارٹی یا بیٹی؟ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔زمینی حقائق کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت کو یہ فیصلہ قبول نہیں۔چند جونیئر رینک کے ہاں میں ہاں ملانے والے ورکرزکے سوا مریم نواز کے ساتھ کون کھڑا ہے؟تالیاں بجوانے کے شوق میں، یا دانستہ یہ تأثر دینے کے لئے نون لیگ اب مزاحمت کی سیاست سیکھ گئی ہے، موجودہ حالات میں پارٹی کو مزید کمزور کر دے گی۔بیٹی کوسیاسی وارث بنانے کاکام فی الحال ترک یا ملتوی کردیا جائے۔ سینئر رہنماؤں کی مشاورت سے بہتر حکمت عملی وضع کی جائے۔پارٹی پر استحکامدینے کا وقت بہت پہلے آ چکاے تھا، مزید تساہل غیر دانشمنداہ رویہ ہوگا۔ بیانیے کاسوال پارٹی پر چھوڑ دیا جائے۔معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے جیسا چاہیں، فیصلہ کر لیں۔معاملے کو سیاسی تناظر میں دیکھا جائے، ذاتی انا کامسئلہ نہ بنایا جائے۔لندن میں ویزہ میں توسیع کی درخواست کا مسترد ہوجانا کسی بڑے خطرے کی گھنٹی سمجھیں۔نوازشریف کے علم میں ہوگا کہ 20اکتوبر2020کو برطانیہ سے غیر قانونی قیام کرنے والے42 تارکین وطن کو لانے والے چارٹرڈ طیارے کو پاکستان میں لینڈ کرنے کی اجازت اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ ان میں نوازشریف شامل نہیں تھے۔علاوہ ازیں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کچھ عرصہ قبل برطانیہ کادورہ منسوخ کر دیا تھا، تب بھی اس منسوخی کے دیگر عوامل میں نواز شریف کی برطانیہ میں غیر قانونی موجودگی کے حوالے سے کوئی اقدام نہ ہونا بھی ایک سبب بتایا گیا تھا۔اپیل میں لوئرکورٹ کا فیصلہ تبدیل کرانا آسان نہیں ہوا کرتا، پاکستانی عدالتوں سے سزااور پھر اشتہاری قراردیئے جانے سے نواز شریف کو قانونی لحاظ سے نقصان پہنچا ہے۔یاد رہے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پرعمل کرنا برطانیہ کی بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ نوازشریف لندن میں زیرِعلاج ہوتے، ان کے لئے قیام کی راہ نکل آتی۔ مریم نواز خود بھی جلسوں میں کہتی رہی ہیں کہ برطانیہ کی عدالتیں انصاف فراہم کرتی ہیں۔ لندن کی عدالتوں کے مزاج کو سمجھنے والے ماہرین قانون بھی نواز شریف کو کوئی ریلیف ملنے کے حوالے سے زیادہ پر امید نہیں۔سیاسی پناہ کی درخواست آتے ہی دی جانی چاہیئے تھی، اب اسے late تصور کیا جائے گا۔وکلاء کی رائے ہے کہ نواز شریف کومجبوراً پاکستان واپس آناپڑ سکتا ہے۔وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایکبار پھر کہا ہے مطلوبہ رقم واپس کریں پھر جہاں رہناچاہیں، رہیں۔حالات کے تیور یہی بتا رہے ہیں کہ اس مرتبہ گلوخلاصی آسان نہیں۔قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔پی پی پی کے قائد آصف علی زرداری نے اس موقع پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کیاہے:”عمران خان انتقام لیں مگر کشمیر پر بھی توجہ دیں“۔وہ بھی یکساں نوعیت کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔بیماری سے مستفیدہونے کا گر جانتے ہیں۔لیکن ضمانت سے زیادہ کوئی ریلیف تاحال حاصل نہیں کر سکے۔تین برسوں میں دونوں پارٹیوں کی قیادت کم از کم اتنا توجا ن گئی ہے کہ مقدمات سے نمٹنے کے لئے ماضی جیسا رویہ کام نہیں آئے گا۔ہمدرد ججز بھی ایک ایک کرکے ایکسپوز ہو ئے یا ریٹائرہوچکے۔آئندہ دو برسوں میں ماضی کے تین برسوں جیسے فیصلے ملنے کی امیدیں دم توڑتی نظر آتی ہیں۔ماورائے قانون فیصلے ملنے شرح نہ ہونے کے برابر ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔سیاست دان مایو س نہیں ہوتے، بند گلی میں بھی آگے بڑھنے کا راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔آج دونوں بڑی پارٹیوں کواسی آزمائش کاسامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں