افغان حکومت سے خوفزدہ نہ ہوں

افغان حکومت کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں حکومتی پالیسی کے چیدہ چیدہ خدوخال بیان کئے ہیں۔داخلی طور پر تین بنیادی اصول ہوں گے:اول یہ کہ۔۔۔۔ ملک میں سب کے لئے عام معافی کا اعلان کیا ہے جو اس بات کا اشارا ہے کہ وہ اقتدار کو مخالفین کے خلاف انتقام لینے یا انہیں خوفزدہ کرنے کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور ان کی اتحادی نیٹو افواج کو شکست دے کر انہوں نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔انہیں احساس ہے کہ عالمی برادری کے امن دوست ممالک کی معاونت کے بغیر تنہااتنا بڑا معرکہ سر کرنے کی ان میں استطاعت نہیں تھی۔بیک وقت اتنی بڑی عسکری قوت سے ٹکر لینا اور اسے زیر کرناناممکنات میں تھا، جو اللہ کے خاص کرم اور نصرت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔انہوں نے اس کامیابی پر تکبر سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کی آنکھیں احسان مندی کے جذبات سے مغلوب اور نم تھیں۔دوم یہ کہ۔۔۔۔ انہیں اچھی طرح یاد ہے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دے کر ساری دنیا کو اپنا مخالف بنا لیا تھااور اس غلط فیصلے کی بھاری قیمت چکائی ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کے لئے کسی ملک یا تنظیم کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔واضح رہے کہ انہوں نے صرف زبان سے اعلان ہی نہیں کیا بلکہ وادیئ پنج شیر میں ان تنظیموں کے خلاف بڑی کارروائی فیصلہ بھی کر لیا ہے جوبعض میڈیا اطلاعات کے مطابق آئندہ چند دنوں میں ہونے کا امکان ہے۔القاعدہ کے حوالے سے امریکی وزراء کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ اس کی تربیت اور فنڈنگ خودامریکہ نے کی تھی، جیسے امریکی صدرجو بائیڈن نے قوم سے حالیہ خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ نے اشرف غنی کی (پٹھو) حکومت اور اس کی فوج پر 2ٹریلین ڈالر(2ہزار ارب ڈالر)خرچ کئے ہیں۔یہ خطیر رقم ہے،اسے امریکی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں پر خرچ کیاجانا چاہیئے تھا۔افغانستان سمیت دنیا بھر میں غربت کے خاتمہ کے لئے خرچ کیا جاتا تو زیادہ بہتراور قابل ستائش اقدام سمجھا جاتا۔ ہزاروں امریکی فوجی اور ان کے ٹھیکدار ہلاک نہ ہوتے،ہزاروں زخمی ہو کر زندگی بھر کے لئے معذور ہونے سے بچ جاتے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقوام متحدہ کے فنڈز روکنے کی مجبوری لاحق نہ ہوتی۔ امریکی معیشت کو اتنا بڑا دھچکا نہ لگتا۔سوم یہ کہ۔۔۔۔ افغان طالبان حکومت کو شدت سے احساس ہے کہ جنگ زدہ افغانستان کو عالمی تعاون کے بغیر تعمیر کرنا ممکن نہیں، قدم قدم پرعالمی تعاون درکار ہوگا۔ ان کی سوچ فرقہ وارانہ گروہی نہیں رہی۔ہمہ جہتی(مذہبی، لسانی، قبائلی)عصبیت اور تنگ نظری سے نکل آئے ہیں،سوچ میں عالمگیر وسعت آئی ہے۔اسے بہت بڑی تبدیلی مانا جائے۔آج دنیا کو اسی کی ضرورت ہے۔افغان طالبان نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے، اپنامحاسبہ کیا ہے،اپنی اصلاح کی ہے۔ چہارم یہ کہ۔۔۔۔ اپنے ملک میں افیون کی کاشت پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ منشیات تمام جرائم کی ماں ہے، ام الجرائم ہے۔اخلاقی اقدار کو پامال کرتی ہیں۔معاشی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔منشیات کاقلع قمع دوررس نتائج کا حامل اور ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے از حد ضروری اقدام ہے۔پنجم یہ کہ۔۔۔۔ اسلحے کی اسمگلنگ کے خاتمہ کے ہر ممکن اقدام کا اعلان کیا ہے۔دہشت گردی غیر قانونی اسلحے کے بغیر نہیں ہوسکتی۔اس میں بارودی مواد سے تیار کردہ گاڑیاں بھی شامل ہیں جنہیں ریموٹ کنٹرول سے اڑایا (فائر کیا) جا سکتا ہے۔خود کش بمبار بھی اس فہرست میں شامل ہوں گے۔مٹھی بھر افراد دنیا پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے قابل نہیں رہیں گے، انہیں معاشرے کا اکثریتی فیصلہ قبول کرنا ہوگا۔دنیا محفوظ ہوجائے گی۔۔۔۔یہ امر خوش آئند ہے کہ یورپی یونین نے بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ افغان طالبان نے جنگ جیتی ہے، ان سے بات کرنی پڑے گی۔ امریکہ بھی افغانستان سے مشروط رابطہ رکھنا چاہتا ہے۔اس کی عائد کردہ شرائط پر عمل درآمد کا اسلامی امارات افغانستان نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں