امریکی پسپائی میں دنیا کے لئے پیغام

آج اچانک عالمی منظر تبدیل ہوگیا ہے، دنیا کو ڈرانے والا امریکہ خود اپنے شہریوں کے بحفاظت انخلاء کو ایک بڑی خبر سمجھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر افغانستان سے نکلنے والوں کے اعدادو شمار جاری کر رہا ہے۔یہ دیکھ کر ہر باشعور انسان کانوں کو ہاتھ لگا رہا ہے،اس کی زبان پر بیساختہ یہ کلمات آجاتے ہیں:”اے عقل والو! عبرت حاصل کرو!“۔تاریخ میں ایسی تبدیلی ہر ایسے موقع پر دیکھی جاتی رہی ہے جب کوئی ملک یا قوم یاچند اقوام مل کر عالمی انسانی برادری کو مساویانہ حقوق دینے کی بجائے بعض ملکوں کی علمی، معاشی اور عسکری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں اپنا محکوم بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ نہیں دیکھاجاتا کہ انسان کو اَللہ نے کمانے کے لئے دو ہاتھ اور کھانے کے لئے ایک منہ دے کر پیدا کیا ہے۔سورج سب کو اپنی روشنی اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ ہوا ئیں بادلوں کو اٹھائے ایک خود کار نظام کے تحت پیاسی زمین تک لے جاتی ہیں،اور بادلوں سے برسنے والا پانی ملتے ہی ویران زمینوں پر پھل دار پودے اور دیگر نباتات تازہ دم ہوجاتے ہیں۔جانداروں کو وافر مقدار میں غذا میسر آتی ہے۔جس طرح ان بادلوں اور ہواؤں پر ان نام نہاد چوہدریوں، وڈیروں، سرداروں، جاگیر داروں، اور سرمایہ داروں کو اَللہ کی جانب سے کوئی اختیار نہیں دیا گیا اسی طرح انہیں دوسرے انسانوں اور دیگر اقوام کو اپنا محکوم بنانے کا کوئی اختیاربھی نہیں دیا۔اَللہ نے زمین پر انسان کو اپنا ”خلیفہ“ بنا کر خلق کیا ہے۔تمام امور باہمی مشاورت سے طے کرنے کا حکم دیا ہے۔ زندگی بسر کرنے کے اصول اور ضابطے سکھانے کے لئے کتابیں دے کرانبیاء اوررسول بھیجے۔ان کتابوں میں درج قوانین پڑھے جائیں، کسی کو دوسرے انسان پر ظلم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔چادر اور چاردیواری کی تقدیس متعین کی گئی ہے۔سب جانتے ہیں؛انسان (اور دیگرجاندار)خاندان کی صورت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔خاندان معاشرے کی اکائی ہے،مل جل کر زندہ رہنے کی تربیت خاندان اپنی نگرانی میں کرتا ہے، اورخاندان مل کر معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔سب کو زندہ رہنے کا حق دیا گیا ہے۔لیکن انسانی برادری کے کچھ حصے بعض اوقات ان حدود کو عبور کرلیتے ہیں، کمزوروں کو دبوچ کر ان پر اپنی حاکمیت جتاتے ہیں تو ان کا انجام عبرت ناک شکست کی صورت میں دنیا دیکھتی ہے۔امریکہ آج کل اسی ہزیمت سے دوچار ہے۔یاد رہے کہ یہ اصول آفاقی ہیں۔ملکی حدود و قیود سے ماوراء ہیں۔اگرملکی حدود میں بسنے والے شہریوں سے ناانصافی برتی جائے تب بھی معاشرہ عدم توازن کا شکار ہوجاتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان کی مقتدرہ کو بھی سوچنا ہوگا کہیں اس سے طاقت کے یک طرفہ ہونے کی بناء پر ایسی غلطی تو سرزد نہیں ہورہی جو کل اسے ندامت سے دوچار کردے۔پڑوسی ملک افغانستان میں انہونی ہو گئی ہے۔صرف امریکہ ہی نہیں پورا یورپ بھی حیران ہے۔کبھی کہتے ہیں طالبان سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے، دوسرے لمحے کہتے سنائی دیتے ہیں اگر انہوں نے ”یہ“نہ کیا تو ان سے روابط رکھے جا سکتے ہیں۔ امریکی مقتدرہ خود گومگو کی کیفیت میں ہے، ہزاروں ارب ڈالر کا قوم حساب مانگ رہی ہے، جواب دینا مشکل ہوگیا ہے۔ قوم کو تسلی بخش جواب نہ دے سکی تو ان دیکھی مشکلات میں اضافے کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہوگا۔ تاریخ ہر سانحے کا جواب مانگتی ہے۔ہم جس خطے میں آباد ہیں وہ بھی تیز رفتار تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ حالات آپس میں گڈ مڈ ہوگئے ہیں،کچھ سمجھ نہیں آرہا اپنے عوام کو کیسے سمجھائیں کہ اچانک بازی کیونکر پلٹ گئی۔امریکی جارحیت کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے والوں کو برسوں پہلے اندازہ ہو گیا ہے کہ کھیل پر امریکی گرفت مضبوط نہیں رہی۔ اپنی گرفت کمزور ہوتے دیکھ کر طالبان سے براہ راست یا بالواسطہ رابطے شروع کر رکھے تھے۔یہ رابطے دوحہ میں معاہدے کی صورت میں اختتام کو پہنچے۔امریکہ نے انخلاء کی تاریخ میں تبدیلی کے نام پر نیم دلانہ کوشش کی کہ اس معاہدے سے انحراف کی کوئی راہ نکال سکے مگر سخت ردعمل کے باعث اس نے یہی مناسب جانا کہ یہاں سے جتنی جلدی ممکن ہو جان چھڑا لی جائے۔آج کل اسی تگ و دو میں مصروف ہے۔اس منظر سے تمام قوتوں کوواضح اور یکساں پیغام مل رہا ہے کہ۔۔۔۔ دوسروں کو طاقت کے زور پر محکوم بنانا ممکن نہیں۔ کسی کے حقوق سلب کرکے اس کے وسائل ہڑپ کرناقدرت کی منشا کے خلاف ہے۔قدرت نے تمام انسانوں کو دنیا میں باوقار زندگی بسر کرنے کا غیر مشروط حق دیا ہے۔کسی پرانے عنوان کا سہارا لے کر،یا عنوان کو تبدیل کر کے یہ حق نہیں چھینا جا سکتا۔واضح رہے اَللہ نے مرتد ہو نے والوں کو بھی سزا دینے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔(سورۃ البقرۃ آیت217)۔قرآن میں دیئے حقوق کا احترام اَللہ کی اطاعت کے جذبے سے کیا جائے۔ دنیا میں مستقل بنیادوں پر امن قائم ہو جائے گا۔اپنے من گھڑت قوانین کو دنیا سے منوانے کی غلطی دہرائی گئی تو سابقہ نتائج کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ پاکستان تبدیلیوں کے حصار میں ہے، اسے انتہائی محتاط رویہ اپناتے ہوئے اپناراستہ بنانا ہے۔خاردار جھاڑیوں سے اپنادامن بچاتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ اتھل پتھل کا دور عارضی ہے۔اس میں ٹھہراؤ آئے گا، کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن ٹھہراؤ سے انکار ممکن نہیں۔وزارت خارجہ کسی جذباتیت کا مظاہرہ نہ کرے، مہذب لہجہ کسی لمحے فراموش نہ کیا جائے۔جن ملکوں نے کل غلطی کی تھی آج اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،پاکستان کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں، غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرے۔دوست بنائے جائیں، دشمن بنانے سے ممکنہ حد تک اجتناب کیا جائے۔ داخلی محاذ پر اصلاح احوال کی ضرورت ہے، توجہ دی جائے۔مسائل نئے نہیں، دیرینہ ہیں عدم توجہی کے باعث تاحال حل طلب ہیں۔ پڑوس میں رونماہونے والی تبدیلی بھی مددگار بن سکتی ہے، دانشمندی کا تقاضہ ہے،استفادہ کیا جائے۔امن وامان کی خرابی کے بنیادی اسباب دور کئے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔وفاق اس ضمن میں وقتاً فوقتاً وعدے کرتا ہا ہے، اب وقت آگیا ہے،وعدے پورے کئے جائیں۔ اعتماد بحال کیا جائے۔بلوچ عوام کی جائزشکایات دور کرنے میں بہت تاخیر ہو چکی، مزید تاخیر نہ کی جائے۔آئندہ اس امر کو یقینی بنایاجائے کہ وعدہ شکنی نہیں ہو گی۔یہ کام کیا جا سکتا ہے، بلاتاخیر کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں