کیااپوزیشن کا حکومت گرانے کے سوا کوئی کام نہیں؟

علمِ سیاسیات کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لی جائے یہ جملہ نہیں ملے گا:”اپوزیشن کاکام صرف حکومت گرانا یا اسے گھر بھیجناہے“۔ مگر پاکستان میں اپوزیشن جب بھی میڈیاکے روبرو اپنے کسی پروگرام کااعلان کرتی ہے وہ اسی ایک جملے پر مشتمل ہوتا ہے۔یا اسی نکتے کی چند جزئیات (اسمبلیوں سے مستعفی ہونا،لانگ مارچ،اور دھرنا وغیرہ)بیان کی جاتی ہیں۔یہ کام گزشتہ تین برس سے جاری ہے۔ لیکن اعلان درجنوں بار مگرعمل ایک بار بھی نہیں کیاگیا۔البتہ جمیعت علمائے اسلام نے اسلام آباد کے قریب دوپرامن دھرنے دیئے۔پہلادھرناکسی(خفیہ) وعدے کی عدم تکمیل پر احتجاج تھا جبکہ دوسر ا اسی سلسلے کی یاددہانی کہلا سکتا ہے۔اس کے بعد صرف حکومت کو گھر بھیجنے کی صرف تاریخ دی جاتی رہی،حکومت کو گھر نہیں بھیجاگیا۔ایک معقول وقفے کے بعدمنعقد ہونے والے کراچی کے جلسے میں تاریخ بھی نہیں دی گئی۔اسکے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا کہ عین اسی وقت پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس سے ملتا جلتا اعلان اندرون سندھ اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کادعویٰ تھا:”نہ پٹواری سے، نہ مولانا سے، حکومت گرے گی جیالوں سے“۔پی ڈی ایم سے علیحدہ ہونے والی اے این پی خاموش ہے۔گویا اس نے جان لیاہے کہ حکومت اپوزیشن کے مطالبے یا تاریخیں دینے سے نہیں گرے گی،گرنا ہوگاتو اپنی غلطیوں کے نتیجے میں خود بخود اچانک زمیں بوس ہوگی۔ماضی میں یہی روایت رہی ہے۔تاہم ایک دو بار گرانے کی تہمت ایک آدھ پارٹی کے سر آئی،اور اس پارٹی کو یہ خوش فہمی ہوگئی کہ جب چاہے لات مار کر کسی حکومت کو گھر بھیج سکتی ہے۔ تین برس بیت گئے،حکومت قائم ہے۔نواب زادہ نصراللہ خان زندہ ہوتے تو سالانہ حلیم کی دعوت پر سیاست دانوں کو جمع کرتے اورمعروضی حالات کے مطابق کوئی ممکنہ راستہ نکالنے کی کوشش کرتے۔ایسی دعوتوں کے نتیجے میں حکومت تو نہ گرتی البتہ بہت کم خرچے سے جلسے جیسا کام کر لیا جاتاتھا۔ ان دنوں حکومت طیارے سمیت گرنے /گرانے کا رواج تھا۔بشرطیکہ اس طیارے میں امریکی سفیر موجودہو۔لیکن یہ فارمولہ صرف ایک بار آزمایا گیا،پھر متروک ہو گیا۔ اپوزیشن کو چاہیئے ملکی تاریخ توجہ سے پڑھے۔کوئی فارمولہ دائمی نہیں ہوتا۔جو دھرنادینا ہی نہیں یا، دیا جائے اور حکومت گرائے بغیر ختم کر دیناہے،تو ایسی دھمکی سے کیا ہوگا؟ یادرہے سیاست کبھی بھی چند مدارس کے طلبہ کے تابع نہیں رہی۔یہ درست ہے کہ افغانستان میں مدرسے کے طالب علم اچانک ”طالبان“ بنے تھے مگر اس کا پس منظر مختلف تھا۔ملا عمر کی قیادت میں چند طالبان نے ایک خان کو جنسی جرائم پر سزادی،اس کامیابی نے ایک تحریک کی شکل اختیار کی اور آپس میں لڑتے نامی گرامی”وار لارڈز“ اس کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔بنیادی وجہ یہ تھی کہ عوام وار لارڈز کے مظالم سے تنگ آچکے تھے۔پاکستان میں عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں مگر مہنگائی کے ذمہ داروں نے دستانے پہن رکھے ہیں، عوام اس شش و پنج میں ہیں کہ کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کریں؟حکومت کہتی ہے مہنگائی کی ذمہ دار”مافیاز“ہیں۔مافیا کی اصطلاح پرانی ہے، ”گاڈ فادر“نامی ایک ناول میں یہ اصطلاح استعمال ہوئی مگر اسے پاکستان میں عوامی سطح پر شناسائی ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے ملی جس میں مسلم لیگ نون کے تا حیات قائد کو وزارت عظمیٰ سے محروم ہوناپڑا۔آج کل یہ اصطلاح پی ٹی آئی کے ایک مالدار رہنماکے گرد رقصاں ہے۔ کچھ دن موصوف بھی حکومت گرانے کی ہلکی پھلکی مشق کرتے رہے۔انہیں بھی یہ خوش فہمی ہو گئی تھی کہ وہ جب چاہیں حکومت بناسکتے ہیں، گراسکتے ہیں۔وقت گزرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ۔۔۔۔ ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی!۔۔۔۔حکومت گرانے /بنانے کاکام کوئی اور سرانجام دیتا ہے، کہیں اور کیاجاتا ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ نے آنکھ کھولتے ہی سیاسی رموز سے واقفیت حاصل کی مگرنہ جانے کیوں بنیادی باتیں ان کے لئے ہمیشہ غیر اہم رہیں۔ان کے والد مرحوم درویش صفت عالم تھے،عوام کی بے لوث خدمت نے انہیں شمال مغربی سرحدی صوبے(سرحد،آج کل پختونخوا) کاوزیراعلیٰ بنادیا۔یہی وجہ تھی کہ ان کی گردن میں سریا نہیں آیا۔یاد رہے افغان طالبان نے مدارس میں زیرتعلیم بچوں کے ساتھ جنسی مظالم کے خلاف جدوجہد کی اور نام کمایا۔ان کے ساتھیوں میں سے کسی پر اپنے شاگردوں سے زیادتی کاا لزام نہیں لگا، جبکہ جے یو آئی کے متعدد مفتیان آجکل اسی الزام میں عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔یہ بہت بڑاکرداری فرق ہے۔سیاست میں جن لوگوں کا اثاثہ صرف اور صرف نیکنامی ہو کوئی انہیں شکست نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس داغ دار دامن ہو تو رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں ملتا۔جب زبان خنجرخاموش رہے توآستین کا لہو پکارنے لگتاہے۔ میڈیا کے پاس آج آنکھیں اور زبان دونوں ہیں۔ ڈی این اے جیسی طاقت ور گواہی کا انکار ممکن نہیں۔پہلے صرف دستار خطرے میں تھی،آج سر اور دستار دونوں خطرے میں ہیں۔گردش زمانہ حالات کو ایک بار پھر اسی مقام پر لے آئی ہے کہ سیاست پاکیزگی کی طلبگار ہے۔اپوزیشن کو سنجیدگی سے جائزہ لیناہوگاکہ اس کے قافلے میں کوئی کم نظر تو شامل نہیں؟درِ غیر پر سرجھکانے والاقافلے میں شامل ہو تو منزل نہیں ملا کرتی۔قافلہ راستے میں لٹ جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ دیکھنے کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی ہے کہ اپوزیشن اپنے فرائض کی فہرست پر نظرِ ثانی کرے، دیکھا جائے اس فہرست میں دیگر سماجی مسائل شامل کرنے کی گنجائش کتنی ہے؟اگر مسائل کی گنجائش ہے تویہ سوال بھی قابل توجہ ہوگا کہ عوام کو کیسے سمجھایا جائے گا کہ ان مسائل کی ذمہ دار صرف اور صرف موجود حکومت ہے۔یہ سوال اہم ہے،جیسے ہی اپوزیشن عوام کو یہ بنیادی نکتہ سمجھانے میں کامیاب ہوگی، اس لمحے عوام اس کے گرد جمع ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یاد رہے حکومت کو گھر بھیجنے کا کام عوام کرتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ حکومت کے گھرجاتے ہی منظر تبدیل ہوجاتا ہے۔ عبوری حکومت سامنے آجاتی ہے، الیکشن کمیشن کا کام شروع ہو جاتا ہے، اسے ریٹرننگ آفیسرز مستعار لینے پڑتے ہیں۔ آر اوز کا مزاج مختلف ہوتا ہے انہیں شفاف،منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کرانے پر مجبور نہیں کیاجا سکتا۔چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ ”منتخب حکومت“ کو گراں گزرتا ہے۔برسوں دوبارہ گنتی نہیں ہوتی۔ فضاء میں دھند ہو توریٹرننگ افسران نتائج سمیت ”غائب“ ہوجاتے ہیں۔ایسے ماحول میں شہباز شریف”شفاف“ انتخابات چاہتے ہیں!!!یہ مطالبہ چاند کھیلنے کومانگنے جیساہے!!! خدا خیر کرے،رحم کرے!

اپنا تبصرہ بھیجیں