توہین عدالت میں اضافہ کیوں؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل204توہینِ عدالت سے متعلق ہے۔اس میں تمام امور کی وضاحت درج ہے۔عدالت سے مراد ہے:”سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ“۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ ماتحت عدالتیں اَللہ کی حفاظت میں رہیں گی، ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جائے قابل سزا جرم نہیں ہے۔اور عملی طور پر یہی کچھ ہورہا ہے۔وکلاء جب چاہتے ہیں ماتحت عدالتوں میں ہلڑبازی کرتے ہیں،گالیاں اور دھمکیاں دیتے ہیں، ججز کو ان کے چیمبرز میں بند کرکے تالوں میں ایلفی ڈال دیتے ہیں۔انہیں وکلاء کے تشدد کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک خاتون جج نے چیف جسٹس پاکستان کو بذریعہ خط وکلاء کے ہاتھوں اپنے فرایض منصبی کی ادائیگی کے دوران پہنچائی جانے والی ایذا رسانی سے آگاہ کرتے ہوئے دکھی دل سے لکھا تھا:۔۔۔
”اس بد سلوکی کو دیکھ کر اپنے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر افسوس ہوتا ہے، اس سے کہیں بہتر ہوتا
میں تعلیم حاصل نہ کرتی، دیگر خواتین کی طرح اپلے تھاپ کر اپنی زندگی گزار لیتی“۔۔۔۔
یہ طوفانِ بدتمیزی صرف ماتحت عدالتوں تک محدود نہیں اکثرو بیشتر ہائی کورٹس پر وکلاء کے جتھے حملہ آور ہوتے ہیں،(اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملہ اس نوعیت کا تازہ ترین واقعہ ہے)، تفصیلات سے ہر پاکستانی واقف ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے میڈیا کے روبرو اعتراف کیا ہے کہ”اس روز انہوں نے 5گھنٹے اپنے دفتر میں موت کا انتظار کیا تھا“۔اپنے دفتر کا خواتین پر مشتمل عملہ انہوں نے اپنی نگرانی میں وین میں سوار کرا کے گھروں کو روانہ کر دیا تھا۔(تاکہ وکلاء کی غنڈہ گردی سے محفوظ رہیں)۔یاد رہے یہ مناظر ہائی کورٹ کے احاطے میں دیکھے گئے جسے پاکستان کاآئین ”توہین عدالت“کے سلسلے میں آرٹیکل204میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔آج کل چیف جسٹس(ر) گلگت بلتستان ہائی کورٹ کا ایک حلفی بیان اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے،وہ بھی توہین عدالت سے متعلق ہے۔اس سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ توہینِ عدالت اتنا سادا سا جرم ہے جو کثرتِ استعمال کی بناء پر ”توہینِ عدالت“ ہونے کا مفہوم کھو چکا ہے۔جیسے تھوڑا عرصہ پہلے تک جھوٹی گواہی کو قانونی طور پر جائز سمجھا جاتا تھا۔جب عدالتیں اپنے ججز اور اسٹاف کو آئینی، قانونی اور جسمانی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوجائیں، تو عام آدمی کی زندگی کس قدر اذیت میں مبتلاء ہوگی، اس بارے کچھ کہنا محض وقت کا زیاں لگتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ 15نومبر کو سپریم کورٹ کے معزز جسٹس قاضی محمد امین نے دوران سماعت ایک وکیل کو یاد دلایا کہ”تم اور ہم سب نے مل کر عدل کے نظام کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ عالمی برادری میں پاکستان 128ویں نمبر پر ہے“۔کسی ادارے کی عالمی رینکنگ کا اس قدر پست ہونا قابل فخر کارنامہ نہیں مانا جا سکتا۔دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے۔کسی ملک کی کوئی چیز، کوئی شعبہ، دنیا سے نہیں چھپا ہواتیز رفتار ذرائع ابلاغ سیکنڈو ں میں شعبہ جاتی کارکردگی دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا دیتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں کہہ سکتے کہ تماشائی ہے۔یہ الزام بھی عائد کیا جا سکتا ہے کہ متعصب ہے،پاکستان کو دنیا کی نظروں میں گرانا چاہتی ہے،مگران لاکھوں مسائل زدہ سائلین کو معمولی نوعیت کے مقدمات میں نصف صدی تک عدالتوں کے چکر لگاتے ہر شخص اپنی آنکھوں سے خود دیکھ سکتا ہے۔ چند منٹوں فیصلہ سنائے جانے کے قابل مقدمات میں چالیس پچاس سال لگا دیئے جاتے ہیں۔بقول معزز جسٹس قاضی محمد امین اس تکلیف دہ اور ناقالِ دفاع صورتِ حال نے وکلاء اور ججز دونوں کی غفلت، اور ظالمانہ خود غرض رویئے کی بناء پر ایک قابل مذمت شکل اختیارکی ہے۔اب بگاڑ نے تمام حدود پار کر لی ہیں۔ایک صوبے یا اس سے ملتی جلتی حیثیت (گلگت بلتستان)کا چیف جسٹس، ریٹائرڈ ہی سہی،پاکستان کے چیف جسٹس (ریٹائرڈ) کے خلاف بیانِ حلفی کی تصدیق پاکستان کے کسی نوٹری پبلک افسر سے کرانے اور پاکستان کی مجاز عدالت میں جمع کرانے کی بجائے لندن جاتا ہے۔عام آدمی کی نظریں دو روز بعد اسلام آباد کے ”توہینِ عدالت“ کے مذکورہ بالا مقدمے کی سماعت پر لگی ہیں،جب بیان حلفی دینے والے سابق چیف جسٹس اور ان کے بیان حلفی کو شہ سرخی بنا کر شائع کرنے والے صحافیوں اوراخبار کے مالک کو بھی طلب کر رکھا ہے۔عام آدمی سمجھتا ہے کہ یہ منظر اور یہ دن عدلیہ کو ہرگز نہ دیکھنے پڑتے اگر اس وکیل کو اسی روز اپنے مجرمانہ کلمات کی قانونی سزا دے دی جاتی جس نے تحقیقاتی افسران کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ببانگ دہلدھمکی دی دیتے ہوئے کہا تھا:
”تم حسین نواز کا حساب لے رہے ہو، حسین نواز،نواز شریف کا بیٹا ہے،
اور ہم نواز شریف کے کارکن ہیں،تمہارے بچوں اور خاندان پر پاکستان کی زمین تنگ کر دی جائے گی،۔۔۔تمہارا یومِ حساب بنا دیا جائے گا“۔
اگر عدالتِ عظمیٰ جے آئی ٹی افسران کے بچوں اور خاندان کے لئے پاکستان کی زمین تنگ کرنے کی دھمکی دینے والے وکیل کو اس کے جرم کی قرار واقعی سزا دیتی،غیر مشروط معافی نہ دیتی تویہ سلسلہ رک جاتا۔ کسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا تقدس پامال کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔کوئی مانے یا نہ مانے سچ یہی ہے کہ توہین عدالت جیسے جرم کی حوصلہ افزائی میں عدالت عظمیٰ بھی حصہ دار ہے۔قانون ”عمل“ کو دیکھتا ہے، نیتوں کی جانچ پڑتال کا نظام ابھی انسان نے ایجاد نہیں کیا۔ جب تک نیتوں کی جانچ پڑتال کا نظام ایجاد نہیں ہوتا،اور پارلیمنٹ”نیت“ کی قانونی اورآئینی حیثیت کا تعین نہیں کرتی، اس وقت تک مجرموں کو رائج الوقت قانون کے مطابق”عمل“ کی سزا دی جائے۔یاد رہے سزا دینے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا جانا چاہیے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کا یہ دعویٰ کہ ملک میں ”قانون کی حکمرانی ہے“،اسی وقت درست تسلیم کیا جا ئے گا جب تمام عدالتی فیصلے ”قانون“ کے مطابق کئے جائیں گے، کسی انسان(جج) کی مرضی کے تابع نہیں ہوں گے۔قانون سے ماوراء ہر فیصلے کو انسان کا فیصلہ قرار دیا جائے۔حدیبیہ پیپر ملز کے حوالے سے ایک جسٹس کا ”زائد المیعاد“ قرار دینے کا فیصلہ مساہرین قانون کی نگاہ میں ”ماورائے قانون“ ہے، اصلاح طلب ہے،مذکورہ جج حاضر سروس ہیں، ان سے قانونی وضاحت مانگی جائے۔قانون کی مقررہ حدود سے باہر دیا گیا فیصلہ ”شخصی“ ہے، قانون کی بجائے انسان کی حکمرانی ہے۔اسی طرح سپریم کورٹ کے جس جج نے اپنا پانچ رکنی بینچ کے جج کی حیثیت سے دیا گیا فیصلہ 10 رکنی بینچ میں آکر تبدیل کیا،اس سے بھی تبدیلی کی قانونی وضاحت طلب کی جائے تاکہ ہر شخص دیکھ سکے یہ تبدیلی ”قانون کی حکمرانی“ ہے، شخصی حکمرانی نہیں ہے۔ ویسے بھی مختصر فیصلے کے بعد تفصیلی فیصلہ آنے میں پہلے ہی غیر ضروری تاخیر ہوچکی ہے۔ ماورائے قانون فیصلہ بھی توہین عدالت سمجھا جانا چاہیئے، اس سے عدالت کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ جس فیصلے کو عدالت میں بطور ”نظیر“ پیش نہ کیا جا سکے، اسے ختم یا حذف کردینا چاہیے۔یہ فیصلے عدالت کے دامن پربد نما سیاہ دھبہ ہیں، ان سیاہ دھبوں کو دھونے کا وقت آگیاہے۔چرچ کی طرح ہر ”گیلیلیو“کی روح سے معافی مانگی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں