کیاپارلیمنٹ آئینی /قانونی ابہام کی ذمہ دار نہیں؟
پاکستان کے بلحاظ آبادی سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی راہ میں کوئی آئینی اور قانونی ابہام حائل نہیں؟کیا صوبائی اسمبلی میں اراکین نے قائد ایوان کو آزادانہ اور شفاف طریقے سے منتخب کیاتھا؟کیا اس انتخاب کے دوران تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کئے گئے تھے؟کیا رائے شماری کے وقت اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر اپنی کرسی پر موجود تھے؟ماحول پر امن تھا؟ ان سوالات کا جواب ”ہاں“ میں دینا مشکل ہے۔اگر جواب میں ”ہاں“ کہنا آسان ہوتا تو پنجاب کے منتخب قائد ایوان حمزہ شریف حلف برداری کے لئے مجاز افسر کی دستیابی کے لئے بار بار لاہو ہائی کورٹ سے استدعا نہ کر رہے ہوتے۔ایک مہینے کے لگ بھگ صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی کرسی خالی نہ ہوتی۔گورنر بلاجواز حلف برداری سے انکار نہیں کرسکتے تھے۔لاہو ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد میڈیا اطلاعات کے مطابق گورنر پنجاب نے افطاری کے بعداس ضمن میں آئینی اور قانونی مشیروں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔گویا وہ حلف برداری سے گریزاں ہیں، کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ سے اس تنازعہ کا مناسب حل دینے کی درخواست کی جائے گی۔سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کے لئے ان کے پاس آج رات 12بجے تک کا وقت ہے۔رات 10بجے سے رات گئے تک عدالتیں کھلنے کی نظیر9اپریل2022کو قائم ہوچکی ہے۔سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز ججز کے ریمارکس ریکارڈ پر ہیں کہ عدالتیں 24گھنٹے کام کرتی ہیں۔لاہور ہائی کورٹ کے تین بینچ پے در پے(بینچ کے ایک رکن کی سماعت سے معذرت کے بعد) تحلیل ہونے پر مسلم لیگ نون کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے چچا وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ سرکاری وفد کے رکن کی حیثیت سے سعودی عرب عمرے کی ادائیگی کے لئے پاسپورٹ واپسی کی درخواست واپس لے لی ہے، اس طرح چوتھے بینچ کے تحلیل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کن مرحلہ نہیں آسکا۔اس کے باوجودمریم نواز کی درخواست بھی پاکستان کی عدالتی تاریخ میں دیر تک ایک یادگار مثال سمجھی جائے گی۔ مسلم لیگ نون کی نائب صدر کے بارے میں بھی عمومی تأثر ہے کہ وہ مستقبل کی وزیر اعظم پاکستان ہو سکتی ہیں۔(غیب کا علم صرف اَللہ کے پاس ہے)۔عام آدمی اپنی محدودمعلومات مگر حکومت سازی کے حالیہ واقعات کی روشنی میں اندازہ لگا سکتا ہے۔چند ہفتے پہلے تک کوئی پاکستانی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میاں شہبازشریف وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے اور ان کا صاحبزادہ حمزہ شریف پنجاب کے قائد ایوان منتخب ہوکر حلف برداری کے لئے عدالتوں میں بار بار درخواست دیتے نظر آئیں گے۔لیکن پاکستان میں کب کوئی انہونی ہو جائے اس بارے پیش گوئی ہمیشہ مشکل سوال رہی ہے۔ اس بے یقینی کی بنیاد دیرینہ ہے،سب واقف ہیں،لیکن مصلحت پسندی کا شکار ہیں۔جابر حاکم کے سامنے کلمہئ حق کہنے کا حوصلہ رکھنے والے بتدریج کم ہوتے گئے، لیکن معدوم نہیں ہوئے، اب بھی ان کی جرأت مندانہ آواز فضاء کا سناٹا توڑکر ایوانوں تک پہنچتی اور حکمرانوں پر خوف طاری کرتی رہتی ہے۔یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا۔جو کچھ ماضی میں حاکموں نے کیاہے، اس کو اون(own)کرنے کو کوئی تیار نہیں،سب انکاری ہیں۔لیکن تاریخ ایک دن حساب کی کتاب ہاتھ میں لئے عوام دشمنوں سے جواب ضرور مانگتی ہے۔پاکستان میں بھی جواب طلبی کا دن آ کر رہے گا۔ بعض اوقات مہنگائی کے ستائے کروڑوں لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ دن زیادہ دور نہیں،صبح صادق نہ سہی، صبح کاذب کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔اونچی اونچی کرسیوں پر بیٹھے بااختیار لوگوں کی گنتی شمار کرنے کی صلاحیت ہزاروں تک سکڑنا شروع ہوگئی ہے۔ واضح رہے صبح کاذب نمودار ہونے کی یہ پہلی نشانی ہے۔خلق خدا بیدار ہو جائے تواستحصالی ذہنیت کے علم برداروں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملا کرتی۔قدرت صرف قیامت کو ہی حساب نہیں لے گی، جب چاہے اسی دنیا میں حشر برپا ہو جاتا ہے۔اَللہ نے ماضی کی تباہ حال بستیوں کے کھنڈرات پر غور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا ہے:”ان کے اعمال نے انہیں اس انجام تک پہنچایا ہے“۔پاکستان کے حکمران ماضی کے کھنڈرات سے سبق لیں، اپنے اعمال پر نگاہ ڈالیں، سوچیں اعمال کے لحاظ سے وہ کون سے کیمپ میں کھڑے ہیں؟ کس قافلے میں شامل ہیں؟ عوام دوست یا عوام دشمن؟پی پی پی کی قیادت اپنے بانی قائد کے لکھے ہوئے چاررہنما نکات کو ایک بار بھرپور سنجیدگی سے پڑھے:
اسلام ہمارا دین ہے
جمہوریت ہماری سیاست ہے
سوشلزم ہماری معیشت ہے
طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں
اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے سوال کرے: کیااپنے منشور کے بنیادی چار نکات سے مخلص ہے؟ اگر جواب ”ہاں“میں آئے تو دوسرا سوال پوچھے:۔۔۔۔”کتنے فیصد؟“،۔۔۔ جواب50فیصد سے کم آئے تو فوراً اپنی اصلاح کی فکر کرے۔ اس تناسب کو بلند کرنے عزم کرے،اس تناسب کے ساتھ استحصالی قوتوں کو زیر کرنا ممکن نہیں۔جواں سال بلاول بھٹو زرداری کو جواں عزم کے ساتھ اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹوکی شاندارروایات پر چلنا ہوگا، اپنی والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح باوقار سیاست اپنانا ہوگی۔ عظیم نقوش پر چل کر ثابت کرنا ہوگا: آج بھی بھٹو زندہ ہے!!،یادرہے،ان کے دونوں پیش رو تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہے ہیں، یہ مقام حاصل کرنا آسان نہیں، مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔دونوں پیش رو ؤں نے اپنی خداداد ذہانت، اپنی بصیرت اور دلائل کی قوت سے مخالفین کو اپنا مؤقف سمجھایا، ان سے ممکنہ حد تک عوام دوست فیصلے کرائے۔اب قیادت و سیادت کایہ تاریخی کردار اداکرنے کا موقع ملا ہے تو ہر لمحے یاد رہے کہ اپنے عظیم نانا اور بینظیر والدہ کے اثاثے میں اضافہ کے لئے وقف کرنا ہوگا۔اس میں ہر گزکمی نہ آنے پائے۔یہ سمجھنے کی کوشش بھی کی جائے کہ مقتدر حلقوں کی ایسی کون سی مجبوری تھی جو پی ٹی آئی کو معزول کرکے نئے اتحاد کو نمائندہ بنانے کا سبب بنی؟چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،اپنی خاندانی ساکھ پرکوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔عوامی مفادات کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے۔


