کاروباری سرگرمیاں بحال؛ خوش آئندہ فیصلہ

اداریہ
وفاق اورصوبوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں پیر تا جمعہ شام تک 7بجے تک جاری رہیں گی ہفتہ اور اتوار مکمل لاک ڈاؤن ہوگا۔یہ فیصلہ ہر چند کہ خوش آئند ہے مگر کئی اعتبار سے مبہم ہے۔پہلی بات یہ کہ ”مکمل لاک ڈاؤن“ کی وضاحت نہیں کی گئی۔ادھوری بات یا فیصلہ ابہام پیدا کرتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی سمجھ اور صوابدید کے مطابق اس کا نفاذ چاہتے ہیں۔جبکہ عام شہری اس سے یہ سمجھتا ہے کہ پیر تا جمعہ لاک ڈاؤن نہیں ہوگا۔ہمارے ملک میں ابھی تک صاف اور سیدھے انداز میں بات کرنے کا چلن رواج نہیں پا سکا۔ہر معاملے میں گنجائش رکھی جاتی ہے کہ طاقتور اسے اپنی مرضی کے معنے پہنائے اور کمزور چیختا رہے اس کی بات نہ سنی جائے۔یہ رویہ ناقص اور نقصان دہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اربوں روپے چوری کرنے والا لندن کے عالیشان ہوٹلوں میں اپنی فیملی کے ساتھ چائے پی رہا ہے اور مرغی چوری کے الزام میں غریب آدمی جیل میں سزا بھگت رہا ہے۔”لاک ڈاؤن“ اور ”مکمل لاک ڈاؤن“ میں فرق بتایا جائے۔کرفیوکے دو معنے نہیں ہوتے۔جہاں نافذ کیا جاتا ہے ہر شہری کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر سے قدم بار رکھا تو گولی کی زد میں ہوگا۔اس میں نرمی کا اعلان بھی غیر مبہم انداز میں کیا جاتا ہے۔پاکستان میں ذومعنی گفتگو رائج ہے کم از کم سرکاری شعبہ اور سیاست دان دو ٹوک انداز میں بات نہیں کرتے۔ اور سرکارکسی ایک شے کا نام نہیں سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے امتزاج کا نام ہے۔چنانچہ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔اس کی شرمناک مثال اگلے روز وائٹ ہاؤس میں دنیا نے دیکھی۔دنیا بھر کے تمام پرنٹ اور الیکٹرانک نے اسے نمایاں طور پر جگہ دی۔خبر یہ تھی:
۔۔۔۔”امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے زیر زمین بنکر میں پناہ گزین ہو گئے“۔۔۔۔۔ اس خبر میں ہر شخص کو یہ پیغام دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر کو اپنے عوام اور اپنی بیوروکریسی(سول اور عسکری)دونوں پراعتماد نہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کو عوام پر اعتماد ہوتا تو وہ وائٹ ہاؤس کے گیٹ پر ان سے خطاب کرتے ان کے مطالبات پر گفتگو کے لئے انہیں دعوت دیتے اور خوشگوار ماحول میں بات چیت سے مسئلے کو حل کر لیا جاتا۔دوسری جانب اگر انہیں اپنی بیوروکریسی پر اعتماد ہوتا تو بنکر میں نہ چھپتے۔اپنی رہائش گاہ سے نہ بھاگتے۔وہ جانتے ہیں کہ امریکی بیوروکریسی نے ماضی میں اپنے ایک صدر(جان ایف کینیڈی)کو اپنے ایک افسر کے ذریعے قتل کرایا تھا۔یاد رہے بنکر میں وہ شخص چھپتا ہے جسے یقینی موت سامنے نظر آرہی ہو۔امریکی صدر کو اپنے گارڈز، سول انتظامیہ اور عسکری انتظامیہ میں سے کسی ایک پر اعتمادہوتا تو بنکر میں نہ چھپتے۔
پاکستان میں صدارتی نظام کے حامیوں کے لئے یہ منظر سبق آموز ہے۔پاکستان میں صدارتی نظام ایک فوجی جرنیل نافذ کرتا ہے اورپھرصدارتی نظام نافذ کرنے والا صدراوراس کا صدارتی نظام ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں پارلیمانی نظام دوبارہ اقتدار میں آجاتا ہے۔ اختیارات سے محروم صدر ایوان صدر میں رہائش اختیار کر لیتا ہے جس کی رہائی کے لئے ایوان صدر کی دیواروں پر لکھا جاتا ہے:۔۔”چوہدری فضل الٰہی کو رہا کرو“۔پاکستان میں ایک سے زائد مرتبہ صدارتی نظام رسوا ہو چکا ہے۔ کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم اپنے عوام میں کیوں مقبول ہیں؟کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔وہ خوبی اپنائی جائے جو ان وزرائے اعظم کی مقبولیت کا سبب ہے اوراس کمزوری سے بچا جائے جو پاکستان میں وزرائے اعظم کو جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار تک لے جاتی ہے۔ شہباز شر یف کے حالیہ انکشافات کو پاکستان کے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہر طالب علم کو معلوم ہو سکے کہ پاکستان میں وزیر اعظم کون منتخب کرتا ہے اور کابینہ کس کی مرضی سے بنتی ہے؟73سال کم نہیں ہوتے۔قیام پاکستان کے بعد تیسری نسل حکمران ہے۔اب تجربات کی گنجائش نہیں رہی۔آئین پاکستان موجود ہے اس کا احترام کیا جائے۔قانون کی عملداری قائم کی جائے۔ جنگل کا قانون نہیں چل سکتا۔جنگل کا قانون مافیازکی سرپرستی کرتا ہے۔
کورونا کے حوالے سے عوامی شعور کا اندازہ لگانے کے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا پوچھا گیایہ سوال کافی ہے”کمرہئ عدالت میں سماجی فاصلہ کیوں نہیں رکھا گیا؟“یاد رہے یہ سوال کمرہئ عدالت میں چیف جسٹس وکلاء سے پوچھ رہے ہیں۔جب ملک کے تعلیم یافتہ اور قانون دان افراد کو ”سماجی فاصلہ“جیسی احتیاطی تدبیر پر عمل کرتے ہوئے ملک کا عام شہری نہیں دیکھتاتو یہی رائے قائم کرتا ہے کہ ملک میں کورونا جیسی کوئی وباء نہیں پھیلی یہ سب مالدار دنیا کا پروپیگنڈا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کے کمرے میں ”سماجی فاصلہ“ برقرار نہ رکھا جانا ہماری معاشرتی زندگی کی ایک جھلک ہے۔ جب سپریم کورٹ کے وکلاء ”سماجی فاصلے“کی ہدایت کو پامال کرتے ہیں تو اس کے معنے اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتے کہ اس ملک میں قانون کا احترام من حیث القوم نہیں کیا جاتا۔عام آدمی کو ”مکمل لاک ڈاؤن اور نامکمل لاک ڈاؤن کے جھنجٹ میں نہ ڈالا جائے۔صاف اور سادہ الفاظ میں بتایا جائے کہ عام آدمی کو پیر سے جمعہ تک کتنے گھنٹے کاروبار کی اجازت ہے اور باقی دو دن اسے کیا کرنا ہے؟ تاکہ لوگ قانون کے احترام اور قانون شکنی میں تمیز کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں