چینی انکوائری رپورٹ پر کارروائی کی اجازت

اداریہ
وفاقی حکومت کی جانب سے چینی انکوائری رپورٹ پر کاروائی سے بچنے کے لئے شوگر مل مالکان نے ملک کے معروف وکلاء کی خدمات حاصل کیں اور عدالت سے حسب عادت عدلیہ سے حکم امتناعی کی درخواست کی۔ عدالت نے شوگر مل مالکان کی فریادِمعروضات سننے کے لئے اسٹے آرڈر جاری کردیا اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس انکوائری میں حکومتی لوگوں کے خلاف رپورٹ آئی ہے تو پھر تعصب کہاں ہے؟مگر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنا دیا اس کے نتیجے میں اسٹے ختم ہو گیا اور حکومت کو کارروائی کی اجازت مل گئی۔عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ عدالت ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔حکومتی ارکان کو اس معاملے میں بیان بازی نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ شوگر مافیا کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ بحران پیدا کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔یہ عدالتی فیصلہ اس حوالے سے بھی خوش آئند ہے کہ شوگر مل مالکان کو طویل عرصے تک اسٹے نہیں مل سکا۔ عدالت نے دنوں میں سماعت مکمل کی اورفیصلہ سنا دیا۔تعجب انگیز پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود شوگر مل مالکان نے چینی کی قیمت کم نہیں کی۔عوام شاکی ہیں کہ ماکیٹ میں آج بھی چینی 90سے100روپے فی کلو بیچی جا رہی ہے۔یہ رویہ صرف چینی تک محدود نہیں۔ پیٹرول کی قیمتیں کم کی جانے پر پیٹرول ملنا مشکل ہو گیا۔آٹا ایک بار پھر ہر ہفتے مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور حکومت بے بس نظر آتی ہے۔عدالتی حکم کے باوجود چینی کی قیمت پرانی سطح پر برقرار رہنا اپنی جگہ بہت بڑا سوال ہے۔اس کے معنے ہیں کہ خرابی کی جڑیں گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔انتظامیہ بھی برابر کی حصے دار ہے۔
حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ عوام کو منافع خوروں سے بچائے۔آٹ، چینی اور پیٹرول عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہیں۔غریب آدمی کی غذا میں آٹا مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔صبح کا ناشتہ، دوپہر اور رات کے کھانے میں پاکستان کے بیشتر شہری روٹی کھانا پسند کرتے ہیں۔ملک کے کونے کونے میں چائے پراٹھا بیچنے والے ہوٹل اس کا ثبوت ہیں۔چاول کی حیثیت ثانوی ہے۔ اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جیسے ہی آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے غریب آدمی کی جیب سے رقم کی منتقلی کا عمل سیٹھوں اور ساہوکاروں کی تجوریوں کی طرف رخ اختیار کر لیتا ہے۔اس کے نتیجے میںغریب آدمی کی مالی مشکلات بڑھ جاتی ہیںحکومتی ساکھ متأثر ہوتی ہے اور بلیک میلرز پہلے کی نسبت زیادہ طاقتور ہوجاتے ہیں۔موجودہ قوانین میں اتنے سقم موجود ہیں کہ ذخیرہ اندوز اور مافیاز کو یقین ہوتا ہے کہ انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔ بہتر قوانین کی اشد ضرورت ہے مگر حکومت بوجوہ قانون سازی نہی کر رہی۔ایک وجہ تو نظر آتی ہے حکومت کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس راستے میںرکاوٹ بنے ہوئے ہیں جہانگیر ترین اور بعض دوسروں کا نام چینی اسکینڈل میں شامل ہے۔پیٹرول مافیا میں بھی کچھ نام سامنے آجائیں گے۔چند خاندان قیام پاکستان کے وقت ہی فعال ہو گئے تھے۔محبوب الرحمٰن کے زمانے میں انہیں بائیس خاندان کہا جاتا تھا۔دوسری جانب جاگیر دار عوام کے حقوق کی لوٹ مار میں شریک تھے۔ پولیس،کسٹم اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ان کے تنخواہ دار ملازم بن گئے تھے(اور بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ ابھی تک انہوں نے اپنی وفاداری کا رخ ریاست کی جانب نہیں کیا) ٹیکسوں کی بڑی مقدار قومی خزانے میںنہیں پہنچ رہی۔وزیر اعظم عمران خان ایک سے زائد مواقع پر کہتے رہے ہیں کہ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ایسے لوگ موجود ہیں جولوگوں کو ٹیکس چوری کا مشورہ دیتے ہیں اوراور اس گھناؤنے دھندے میں ٹیکس چوری کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ایک بڑی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔مگر سوال ہے کہ کون کرے ؟پی ٹی آئی کی حکومت دو سال میں ان مافیاز کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔یا انہیں اس مقام تک نہیں لا سکی جہاں کرپشن کے خاتمے کسا عمل شروع ہوتا عام آدمی کو نظر آئے۔نصیحتوں اور وعظوں سے یہ کام نہیں ہوگا۔
شوگر مل مالکان کے خلاف عدالتی فیصلے نے حکومت کو انکوائری رپورٹ پر عمل درآمد کا موقع فراہم کیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کہاں تک آگے بڑھتی ہے؟پاکستان بار کونسل کی جانب سے جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کیس میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کے اعلان سے یہی محسوس کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں نہیں آیا۔ بلکہ وہ مٹھائیاں بانٹنے کے اقدام پر بھی اظہار افسوس کر رہے ہیں کہ انہوں نے پیرا 9پڑھے بغیر ہی مٹھائی بانٹ دی۔عام آدمی حیران ہے اور نجی محفلوں میں کہہ رہا ہے :جب پاکستان بار کونسل کے عہدیدار (تجربہ کار، سینئر ماہرین قانون)فیصلہ پڑھے بغیر مٹھائیاں بانٹنا شروع کرتے ہیں تو شریف فیملی کو رعایتی مارکس دیئے جانے چاہئیں کہ انہوں نے بھی ایسی ہی عجلت کا مظاہرہ کیا تھااور جے آئی ٹی کی قوت کا بروقت اندازہ نہیں کر سکی تھی۔ دیکھیں وکلاء کو نظر ثانی کی درخواست پر کیا جواب ملتا ہے؟تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا۔ویسے عام آدمی پر امید ہے، اسے عدلیہ سے اچھے فیصلوں کا یقین ہے اس لئے کہ ماضی میں بہت ہوچکا،اب ملک کی بقاء داؤ پر لگی ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا۔مافیاز کو سبق سکھانے کا وقت آ گیا ہے اسے گنوانا پرلے درجے کی حماقت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں