امریکہ میں بھی انتخابی دھاندلی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی اور نتائج چوری کئے جانے کی شکایت سن کر پاکستانی عوام کوقدرے اطمینان ہوا کہ امریکی عوام 59ویں انتخابات میں وہیں کھڑے ہیں جہاں پاکستان کئی دہائیاں پہلے پہنچ گیا تھااور امریکی صدر کے منہ سے ”ووٹ کوعزت دو“ جیسا نعرہ سن کر محسوس ہوا کہ امریکہ انتخابی میدان میں پاکستان سے کم از کم چار سال پیچھے ہے۔پاکستان میں یہ نعرہ 2016سے گونج رہا ہے۔سات سمندر پار بھی وہی شکایت کورونا وائرس کی طر ح موجود ہے۔ آج امریکی صدر کہہ رہے ہیں کہ جب بھی انتخابی نتائج روکے جاتے ہیں اور بذریعہ ڈاک بھیجے جانے والے ووٹوں کی گنتی شروع ہوتی ہے، جیتاہوا امیدوار ہارنے لگتا ہے، اس لئے کہ ٹرمپ کو بھی آج اسی قسم کی صورت حال کا سامناہے۔انتخابی نتائج روک دیئے گئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اب میڈیا کا خیال ہے کہ حتمی نتائج دسمبر کے وسط تک سنائے جانے کی توقع ہے۔پہلے لاکھوں ڈاک ووٹ چوری ہونے کی شکایت سامنے آئی تھی۔لگتا ہے امریکہ میں انتخابات مقررہ تاریخ پر تواتر سے ہوتے رہے مگرانتخابی اصلاحات کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ماضی میں الگور/بش کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی بھی عدالت کی مدد سے کرائی گئی تھی۔جو بار بار اس لئے روک دی جاتی کہ کبھی ہاتھ سے کی جانے والی گنتی اور کبھی مشینی گنتی پرعدم کر دیا جاتا تھا۔ بار باردھاندلی کی بو آنے لگتی تھی۔الگورکی انتخابی شکست کا فیصلہ عدالت نے سنایا تھا۔اس فیصلے کو الگور نے یہ کہہ کر تسلیم کرلیا تھا:”میں چارسال بعد بھی جیت سکتا ہوں لیکن عدلیہ کی ساکھ پر حرف آگیاتو صدیوں دورنہیں ہوگا“۔
کچھ عرصے سے امریکہ میں یہ خیال تقویت پکڑتا جارہا ہے کہ عوام کا منتخب کردہ صدر بے اختیار ہے، تمام فیصلے پینٹا گون (امریکی جی ایچ کیو)میں کئے جاتے ہیں۔ جمہوریت کی سرشت میں شامل ہے کہ اپنی بالادستی چاہتی ہے اوراس کی خواہش ہے کہ پینٹاگون اس کے اپنے تابع ہو۔ جمہوریت نے بادشاہت سے طویل جنگ لڑکے بالادستی حاصل کی ہے۔ بادشاہت کو اپنی مختلف انواع کی خاندانی کمزوریوں کی باعث پسپائی اختیار کرناپڑی۔جیسے ہمارے ہمسایہ ملک چین اور روس میں ہوا، ایران کے شہنشاہ کومصرمیں جلاوطن ہوئے اور اسکندر مرزاجیسی زندگی گزار کے گمنامی میں مر گئے۔برطانیہ میں شہزادے شاہی پروٹوکول سے تنگ آکر بیرون ملک جانا شروع ہوگئے ہیں، عام آدمی جیسی زندگی کو ترجیح دینے لگے ہیں۔موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے من و سلویٰ کوچھوڑکر اپنی دال روٹی، لہسن اور پیازوغیرہ واپس مانگ لی تھی۔اگرامریکی عوام پینٹاگون کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تواس کے اثرات ہر اس ملک پر پڑیں گے جہاں جمہوریت خود کو اس سے ملتے جلتے حالات میں گھرا ہوا محسوس کرتی ہے۔”ووٹ کوعزت دو“کے نعرے کی امریکہ میں مقبولیت کے پیش نظر توقع کی جاسکتی ہے کہ پاکستان بھی متأثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا۔عین ممکن ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ انتخابی قوانین میں مطلوبہ اصلاحات کے ذریعے امریکہ کو نعرے کے علاوہ ایک نیا جمہوری راستہ بھی دکھا دے۔ اس لئے کہ دنیا آج سکڑ کرایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔دو دن پہلے مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال میڈیا کے روبرو کہہ رہے تھے کہ آرمی چیف نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر سیاست دان انتخابات کے دوران فوج کی مدد نہیں چاہتے تو فوج کو کوئی شوق نہیں کہ خواہ مخوا مداخلت /مددکرے۔سیاست دان مدد نہ مانگیں، فوج بیرکوں میں رہے گی۔گیند سیاست دانوں کے کورٹ میں ہے۔وزیر اعظم عمران خان سینیٹ کے انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات کے لئے تیارہیں۔ اپوزیشن آگے بڑھے اور عوام کوانتخابی دھاندلی سے ہمیشہ کے لئے نجات دلائے،قانون سازی میں دلچسپی لے،ایسے مواقع بار بار نہیں آیاکرتے۔یہ موقع ہاتھ سے نہ گنوایا جائے۔
لیکن پارلیمنٹ کو بھی اپنی استعداد کار کو بہتر بنانا ہوگا۔کارکردگی کا موجودہ معیار اطمینان بخش نہیں۔ بالخصوص چیئر مین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے موقع پر جوکچھ ہوا،نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ دوسری طرف سیاسی پارٹیوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ موروثی سیاست اور بادشاہت میں کیا فرق ہے؟ موروثی سیاست پسپا ہورہی ہے۔نون لیگ بھی ٹوٹ پھوٹ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔پی پی پی کے پاس بلاول بھٹو زرداری کے بعد کوئی عوامی مقبولیت والا شخص نظر نہیں آتا۔جے یو آئی میں اختلاف رائے کی لہر نے سراٹھایا ہے۔حافظ حسین احمد نے ٹی وی ٹاک شوز میں کھل کر جواظہار رائے اختیار کیا ہے اسے نرم لفظوں میں اپنی قیادت کی فکر سے علیحدگی کہاجا سکتا ہے اور وہ تنہا نہیں ہوں گے۔ بھارت میں کانگریس اپنا رعب و دبدبہ اور عوامی حمایت کھو چکی ہے۔بنگلہ دیش میں مجیب فیملی بھی حسینہ واجد کے بعد کوئی جانشین فی الحال نظر نہیں آتا۔جمہوریت ملکی سطح پر اسوقت ابھرتی ہے جب پارٹی کے اندر بھی نظر آئے۔امریکہ میں دو بار صدر بنا جا سکتا ہے، تیسری بار کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی ہٹا دی گئی ہے۔اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیئے۔جمہوریت میں جمہورکو حق حکمرانی ملنا چاہیئے۔2فیصد مراعات یافتہ طبقہ 98فیصد مفلوک الحال عوام پر حکمرانی کر رہا ہے،یہ بھی اصلاح طلب ہے۔انتخابی اصلاحات میں عام آدمی کی شرکت کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ٹکٹ دینے کے لئے بھاری عطیات کی وصولی کاراستہ بند کیا جائے۔ میرٹ کو بنیاد بنایا جائے۔سیاست میں انٹری کی اجازت صرف بلدیاتی سطح پر ہونی چاہیئے تاکہ چھاتہ بردار قیادت مسلط نہ کی جا سکے۔ملکی سیاست کے ساتھ جوکچھ آج تک ہوچکاہے اسے کافی سمجھا جائے۔امریکی عوام اپنے ملک میں جیسی قانون سازی کریں، ان کا مسئلہ ہے۔لیکن انہیں بھی ووٹ کو عزت دینا ہوگی۔کب تک ہارنے والاصدارتی امیدوار ووٹ بذریعہ ڈاک کو انتخابی دھاندلی قرار دیتارہے گا؟کیا عالمی سپر پاور ہونے کے دعویدار ملک کو یہ زیب دیتا ہے؟


