اسلام آباد، لاپتہ بلوچوں کے لواحقین کا بھوک ہڑتالی کیمپ قائم،مسئلے کو سنجیدہ لیاجائے، نصراللہ بلوچ

اسلام آباد:بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں آج سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کردیا اسلام آباد میں قائم بھوک ہڑتالی کیمپ میں لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ، بی ایس او آزاد کے لاپتہ رہنماء شبیر بلوچ کی ہمشیرہ، لاپتہ حسان و حزب اللہ کے لواحقین، لاپتہ جہانزیب کی والدہ، متحدہ عرب امارت سے لاپتہ راشد حسین کی والدہ اور کراچی سے جبری طور پر لاپتہ نسیم بلوچ اور سعید بلوچ لواحقین سمیت دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین شامل ہیں۔ نصراللہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کا اسلام آباد آنے کا مقصد یہ ہے کہ انکی آواز وزیراعظم عمران خان اور ملکی اداروں کے سربرھان سنے اور انکی لاپتہ پیاروں کی بازیابی کو یقینی بنائے۔نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے مسلے کے حوالے سے بلوچستان کے لوگوں میں شدید ردعمل پائی جاتی ہے اسلیے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں کو اس مسلے کو سنجیدہ لینا چاہیے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے جبری گمشدگیوں کا مسلہ ملکی قوانین کے مطابق حل کرے۔ احتجاج میں شریک لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لاپتہ پیاروں کی طویل گمشدگی کی وجہ سے شدید ذہینی کرب اور اذیت میں مبتلا ہے اسلیے ہم بلوچستان سے تقلیف برداشت کرکے اسلام اباد آئے ہیں تاکہ کوئی ہماری فریاد کر سنے اور ہمیں انصاف فراہم کرے دراثناء سنیٹر اکرم دشتی،عثمان کاکڑ اور اہم این اے محسن داوڈ سمیت مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لواحقین سے اظہار یکجہتی کی.

اپنا تبصرہ بھیجیں