ٹونگا نے سونامی کے بعد ہنگامی امداد کی اپیل کردی

نیوزی لینڈ:نیوزی لینڈ کے قریب واقعے ملک ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی جس کے باعث ٹونگا نے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کےمطابق ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹنے اور اس کے نتیجے میں آنے والے سونامی نے تباہی مچادی ہے جس کے بعد ٹونگا کی جانب سے پانی اور خوراک کے لیے فوری امداد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہفتے کے روز بحرالکاہل میں واقع ملک ٹونگا میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹا تھا جس کے نتیجے میں آنے والے سونامی کو فلپائن کے 1991 کے سونامی کے بعد بدترین سونامی قرار دیا جارہا ہے۔

سونامی کے باعث ٹونگا میں مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ ابتدائی طور پر جانی اور مالی نقصان کا اندازہ بھی نہیں لگایا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے ٹونگا میں سونامی کے بعد امداد کے لیے دو طیارے روانہ کیے ہیں جب کہ ان کا کہنا ہےکہ وہ امریکا، فرانس اور دیگر ممالک سے بھی انسانی بنیادوں پر جلد امداد کے لیے رابطے میں ہیں۔

آسٹریلوی وزیر کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہےکہ سونامی سے سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم ٹونگا میں سونامی کے بعد ایک برطانوی شہری کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کہنا ہےکہ سونامی نے ٹونگا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے تاہم اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔بین الاقوامی تنظیم ریڈ کراس نے ٹونگا میں سونامی کے باعث 80 ہزار لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ریڈکراس کا کہنا ہےکہ آنے والے چند گھنٹوں اور دنوں میں ٹونگا کی صورتحال واضح ہوگی۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز ٹونگا کے دارالحکومت نوکو الوفا سے 65 کلومیٹر دور شمال میں زیر سمندر آتش فشاں پھٹا جس کے بعد دھماکوں کی آواز ہزاروں کلومیٹر دور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور فجی سمیت دیگر جزائر پر بھی سنی گئی۔آتش فشاں پھٹنے کے بعد ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں