عدم اعتماد کل پیش کی جائے گی
کئی دنوں سے ہر خاص و عام سے سیاست سے ذرا سی دلچسپی ہے ایک ذہنی ہیجان میں مبتلا ہے جانے عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجانے سے ملک میں کون سا طوفان نازل ہوجائے گا؟ پی ڈی ایم کے سربراہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ”خزاں جائے“ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کے بعد بہار آئے یا نہ آئے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے کارکنوں کو پیشگی خوشخبری سنادی ہے کہ ان کا جہاز پرانے پاکستان میں لینڈ کرنے والا ہے۔ پرانے پاکستان سے مریم نواز کی مراد وہ پاکستان ہے جس پر گزشتہ تیس پینتیس سال سے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ ساڑھے تین سال قبل پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوگئی جسے دونوں پارٹیاں روز اول سے سلیکٹڈ اور ریجکٹڈ کہہ رہی ہیں۔ دونوں بڑی پارٹیوں کو کامل یقین تھا کہ یہ حکومت اپنی ناکامیوں کے بوجھ سے خود ہی زمین بوس ہوجائے گی۔ جب ساڑھے تین سال گزر گئے اور حکومت نہیں گری تو وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے ساتھ ہی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی دے دی۔ اپوزیشن نے تحریک پر آئینی مدت میں اجلاس طلب کئے جانے کے حوالے سے اعلان کردیا کہ اگر 21مارچ کو اسپیکر نے تحریک پر بحث کے لئے کوئی لمبی تاریخ مقرر کی تو اپوزیشن احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی میں ہی دھرنا دے گی۔ حکومت اس دھمکی سے ڈر گئی اور مسلم ممالک کے وزراء خارجہ کی موجودگی میں ممکنہ تصادم سے بچنے کے لئے قومی اسمبلی میں تزئین و آرائش اور وزرائے خارجہ کے اجلاس کے لئے کسی مناسب جگہ کی عدم دستیابی کا عذر پیش کیا اور 25 مارچ کو اجلاس طلب کرلیا۔ 25 مارچ کو ایک رکن اسمبلی کی فاتحہ اور دعائے مغفرت کے ساتھ ہی اس اجلاس کو 28 مارچ تک ملتوی کردیا۔ قائد حزب اختلاف شہباز سریف کا مائیک بند کردیا گیا اس کے نتیجے میں وہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرسکے۔ 25 مارچ کے اجلاس میں اپوزیشن کے 159 اور حکومت کے 80 اراکین حاضر تھے۔ دیکھیں 28مارچ کے اجلاس میں اپوزیشن تحریک کی حمایت کرنے والے 172 ارکان کو لاسکے گی یا وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کی پیش گوئی درست ثابت ہوگی اور اپوزیشن کے اپنے ایک درجن اراکین ایوان سے غائب ہوں گے؟ ویسے تو یہ عالمی صداقت ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ جولیس سیزر بھی قاتلوں میں سے ایک کو پہچان کر حیرانگی سے کہتا ہے ”بروٹس! تم بھی“ واضح رہے کہ بروٹس جولیس سیزر کا قابل اعتماد ساتھی تھا اور دشمنوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ 28 مارچ کو بھی ہارنے والا فریق اپنے بروٹس دیکھ کر حیرانی سے کہہ رہا ہوگا ”بروٹس تم بھی۔ پاکستان میں وسط مدتی مستعفی ہونا یا عدالتی نااہلی لکھی تھی۔ 2008 سے 2013 تک پی پی پی اور 2013 سے 2018 تک مسلم لیگ ن کی حکومت تو قائم رہی مگر وزرائے اعظم ایک کی بجائے دو دو کرسی پر بیٹھے۔ پی پی پی کے یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم کی کرسی سنبھالی۔ اب برقرار رہنے یا عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کے پاس چونکہ ایوان میں سادہ اکثریت نہیں اس لئے دوسرا وزیراعظم پی ٹی آئی کا نہیں ہوگا۔ لیکن کسی وجہ سے اپوزیشن ایوان میں 272 اراکین اسمبلی (162 اپوزیشن اور 10حکومتی یا اتحادی) نہ لاسکی تو پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان وزیراعظم کے عہدے پر براجمان رہیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اللہ نے چاہا تو تحریک عدم اعتماد 100فیصد کامیاب ہوگی۔ نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا کہناہے کہ وزیراعظم کے سارے پتے خزاں کی طرح جھڑ گئے ہیں، ان کا پتہ کٹ چکا ہے اور وہ عوام کو آوازیں نہیں دے رہے بلکہ کسی اور کو آوازیں دے رہے ہیں کہ ”خدا کا واسطہ مجھے بچالو مگر کوئی بچانے نہیں آئے گا“۔ ایسے بیانات سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ کسی کو بچانے والے کا کردار ابھی ختم نہیں ہوا۔ اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت اس حوالے سے ایک پیج پر نہیں۔ آصف علی زرداری نے ایک صحافی کو غیرجمہوری قوتوں کے فائدہ اٹھانے سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو شوق سے ہو ہاتھ تھام لے۔ آصف علی زرداری نے دو ٹوک الفاظ میں یہ نہیں کہا ”ایسا نہیں ہوگا“ ابھی دو ٹوک الفاظ میں بات کرنے کا وقت نہیں آیا۔ کس لمحے کیا ہوجائے پیش گوئی ممکن نہیں۔ جب آصف علی زرداری جیسے سیاستدان یقین کے ساتھ سیاسی سوالوں کا جواب نہ دیں تو مبصرین اپنے
ادھورے اندازوں میں پیش گوئی نہیں کرسکتے۔ امید اور ناامیدی کہ موجودہ کیفیت آئندہ 24سے 48 گھنے برقرار ہے گی۔ عام آدمی ٹی وی کے پروگرام بھی نہیں دیکھتا، کھیلوں کی خبروں سے دل بہلاتا ہے۔ نوجوان واٹس ایپ میں گم ہیں۔ اس کے باوجود ہزاروں لوگ جلسہ گاہ میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ جمہوریت اور سیاست کے لئے خوش آئند اور حوصلہ افزاء اشارہ ہے۔ جمہوریت کا گلہ گھونٹنا آسان نہیں بشرطیکہ کوئی بے قابو ہنگامہ نہ ہو۔ 10، 11سال تک انتظار والی صورتحال پیدا نہ ہو۔ تدبر سے کام لیا جائے او رایوان کا فیصلہ قبول کیا جائے۔


