زیادہ بارش۔۔۔ زیادہ پانی

28جولائی کو اسلام آباد میں بارش کے پانی نے وہی مناظر دکھائے جو کچھ عرصہ قبل کراچی میں دکھائے تھے۔دیگر ندی نالوں کی طرح گجر نالہ سیلابی پانی کی قدرتی گزر گا ہ رکھتا تھا، اور آج بھی اسے درکارہے۔قیام پاکستان کے وقت یہاں کھیتی باڑی کی جاتی تھی اور باغات بھی تھے۔اسی بناء پراس علاقے کو”لالو کھیت“ کہتے تھے۔بعد میں اس علاقے کا نام پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان(شہید) کی یاد میں ”لیاقت آباد“ رکھ دیا گیا لیکن دیر تک زبان زد عام پرانا نام ہی رہا۔تین ہٹی کے مقام پر گجر نالہ کا پانی نالہ لیاری ندی میں شامل ہو کر سمندر تک پہنچ جاتاہے۔جیسے جیسے آبادی بڑی سیلابی گزرگاہ پر کچی آبادیاں تعمیر ہونا شروع ہو گئیں،جو بڑھتے بڑھتے مکانات کا جنگل بن گئی اور بارشوں میں شہر ایک بڑی جھیل کامنظر پیش کرنے لگا۔ایئر پورٹ کو ملانے والی شاہراہ فیصل کا بھی یہی حال ہے۔نرسری سے چھوٹا گیٹ تک معمولی بارش سے ہی گھٹنے گھٹنے پانی جمع ہو جاتا ہے، ”زیادہ بارش ہو تو زیادہ پانی آتا ہے“۔لاہور کے نشیبی علاقے بھی ہر سال چار چار فٹ پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔راولپنڈی اور اسلام آباد کو جڑواں شہر کہا جاتا ہے حالانکہ اسلام آباد چند دہائیاں قبل پاکستان کے دارالحکومت کے طور پر آباد کیا گیا ہے اور اسے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔لیکن 28جولائی کی بارش نے ثابت کردیا کہ یہ شہر بھی کسی منصوبہ بندی کے بغیر خود روکچی آبادی کے انداز میں کے ڈی اے اور ایل ڈی اے جیسی چشم پوشی، غفلت، ملی بھگت اور کرپشن کے سائے میں پھیلتا پھولتا چلا گیا۔ سی ڈ ی اے کے مزاج، رویئے اور کارکردگی میں بال برابر فرق نظر نہیں آتا۔ رالپنڈی قیام پاکستان سے بہت پہلے آباد ہواتھا۔یہاں ہندوؤں، سکھوں، مسلمانوں اور انگریزوں کے تعمیر کردہ وسیع و عریض اسکول، کالج، گوردوارے، مساجد اور، چرچ اور اسپتال آج بھی موجود ہیں۔ راجہ بازار راولپنڈی کا مرکزی بازار تھا۔بازارکے قریب ایک سرے پر”کمپنی باغ“ہے اورے سرے پر ”باغ سرداراں“، اس سے چند قدم کے فاصلے پرسرخ رنگ کی خوبصورت میں کالج، سامنے میدان، میدان پار کریں تو 36کمروں پر مشتمل”ہائی اسکول“ کی دیدہ زیب عمارت،ہر کمرے کا سائز20×30 فٹ،امتحا ن کے لئے وسیع ہال،اسکول کی عمارت سے ملحقہ اتنا وسیع کھیل کا میدان جس میں بیک وقت ہاکی، فٹبال، کرکٹ اور والی بال کے ضلعی ٹورنامنٹ /مقابلے کرائے جاتے تھے۔واضح رہے یہ عمارتیں قیام پاکستان سے بہت پہلے تعمیرکی گئی تھیں۔ماضی کی تعمیر کردہ اسکول عمارت میں جہاں قیام پاکستان کے بعد ”مسلم ہائی اسکول“ قائم تھا، ساٹھ کی دہائی میں راولپنڈی شہرکی آبادی صرف تین لاکھ تھی،ایک شفٹ میں 3ہزار بچے پڑھتے تھے۔اس کے قریب ہی صاف ستھری سیٹلائٹ ٹاؤن نامی رہائشی آبادی (ساٹھ کی دہائی میں) تعمیر ہوئی،اس سے کچھ فاصلے پر ہولی فیملی اسپتال موجود تھا۔ساری سہولتیں قیام پاکستان سے بہت پہلے اس شہر میں موجود تھیں۔ایسی خوبصورت آبادی کو اسلام آباد کا جڑواں شہر کہنا اس شہر کی توہین ہے۔کسی با اختیار شخصیت کے حکم پرکراچی کی طرح یہاں قائم بدنماتجاوزات مسمارکر دی جائیں،شہری سہولتوں سے آراستہ ایک خوب صورت شہر نکل آئے گا۔یہ تاریخ دہرانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جڑواں شہر کی اصطلاح سے نوجوان نسل کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس تباہی و بربادی کی بنیادی وجہ کیا ہے؟کسی لمبی چوڑی بحث کے بغیرکہا جا سکتا ہے:عوام دشمن ذہنیت کے حامل لوگ حادثاتی طور پریا غیر ملکی دباؤ کے نتیجے میں یا کسی مصلحت کے تحت، کسی میرٹ کے بغیر تمام اختیارات دے کر اسلام آبادبٹھا ئے جاتے رہے،چنانچہ ایسی بھیانک غلطی کاوہی نتیجہ نکلا جو نکلنا چایئے تھا۔یہ جو آج ملک کے وفاقی اور تمام صوبائی دارالحکومتوں کی حالت زار ہے،اسی احمقانہاور خود غرضانہ فکر یا حکمت عملی کا ثمر ہے۔اچھی طرح یاد رہے کہ غلط فیصلوں کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوا کرتا۔جعلی ڈگریاں اور لائسنس حاصل کرنے والے پائلٹ ہوں یا کسی اور شعبے میں کام کریں، ملک کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دے سکتے۔جرمنی، اٹلی، امریکہ، چین اور دیگر ملکوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے مناظربیان کرکے ناقص کارکردگی نہ چھپائی جائے۔مانا جائے کہ سیلابی ریلے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا جرم تھا، نہیں کرنا چاہیئے تھا۔تسلیم کیا جائے کہ چار دہائیاں پارکوں، کھیل کے میدانوں، رفاہی پلاٹوں،آبی گزگاہوں پر مجرمانہ قبضے کسی لحاظ سے درست نہیں تھے۔اعتراف جرم کے بعد سزا کے عمل سے بھی گزرناہوگا، تاکہ مستقبل میں کوئی بااختیار عہدے پر بیٹھ کر اپنے اختیارات کو ذاتی یا گروہی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔قوم کو بھوک، افلاس، بیماری، جہات اور بیروزگاری کی طرف دھکیلنے والوں کو قومی مجرم قرار دیا جائے،یہ لوگ ریاست کے تمام شعبوں میں موجود رہے ہیں، آج بھی اس قانون شکن ذہنیت کے حامل افرادقانون شکنی میں مصروف ہیں۔ مقنہ، انتظامیہ اور عدلیہ سب جواب دہ ہیں، کسی کو آئین میں مقدس گائے نہیں لکھا گیا،جتنااحترم آئین میں درج ہے اس سے زائد نہ مانگا جائے، اور نہ ہی دیا جائے۔ یہ کام پارلیمنٹ کو بلاتاخیر کرنا چاہیے۔قومی خزانہ کہاں خرچ کرنا؟ کیسے خرچ کرنا ہے؟ یہ سب آئین میں درج ہے، ججز نے انصاف کیسے فراہم کرنا ہے؟ آئین میں دیکھا جا سکتا ہے۔قانون سازی ذاتی مفادات میں نہیں کی جاسکتی، عدالتی فیصلے ماورائے قانون نہیں کئے جا سکتے، آئین میں درج ہے۔کسی شخص کو ”ہیلو مائی کنٹری مین!“ کہہ کر آئین، اور اسمبلیاں منسوخ یا معطل کرنے کا کوئی اختیار آئین نہیں دیتا،ورنہ ایسا کرنے والا شخص بیرون ملک فرار نہ ہوتا۔کسی شخص کو ”مجھے کیوں نکالا؟“ کی فریاد گلی کوچوں میں کرنے کا اختیار آئین نے نہیں دیا، ایسا نہ کیا جائے۔ ہر شخص اپنے اثاثے جائز آمدنی سے خریدنے کا آئینی طور پر مجاز ہے۔ لیکن اسے یہ کہنے کا اختیار نہیں دیا:۔”تمہیں کیا“؟،یاد رہے آئین قانون کے مطابق کاروبار کرنے کی اجازت دیتا ہے، کاروبار کیا جائے، مافیاز نہ بنائی جائیں۔ آئین کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ آئین اور قانون کو آنکھیں دکھائے، ایسا غیر آئینی رویہ ترک جائے،آئین اور قانون کا احترام سب پر واجب ہے۔پاکستان کا ہر شہری جس کے پاس پاکستان کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ہے یا 18سال کی عمر میں حاصل کرنے کا استحقاق رکھتا ہے وہ آئینِ پاکستان کا احترام کرنے کا پابند ہے۔اصول بڑا سادہ ہے، مختصر ہے، آسان ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے کسی تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں: ہر شخص خواندہ ہو یا ناخواندہ جانتا ہے:
”کوئی سویلین یا کوئی غیر سویلین،آئین سے بالاتر نہیں“؛
اس سادہ، آسان اور مختصر اصول کو ماننے میں سب کا فائدہ ہے۔ترقی، خوشحالی اور سلامتی اسی اصول میں پنہاں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں